ہوم   >  پاکستان

سعودی ایران کشیدگی میں مغربی طاقتوں کےمفادات پوشیدہ ہیں،عمران

1 month ago

ایران اورخطے کاامن یمن میں جنگ بندی سےوابستہ ہے، روحانی

پاکستانی وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور ایران دونوں سے ہمارے قریبی تعلقات ہیں، ہم دونوں سے تعلقات خراب نہیں کرنا چاہتے، سعودی عرب اور ایران کو یہ بات سمجھنا ہوگی کہ آپس کے اختلافات دراصل مغرب کی کارستانی ہے،جس میں ان کے مفادات پوشیدہ ہیں۔

ایرانی دالرالحکومت تہران میں ملاقات کے بعد مشترکا پریس کانفرنس سے خطاب میں ایران کے صدر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان دوستانہ تعلقات ہیں، پاکستان اور ايران خطے کے استحکام کیلئے کوشش کرسکتے ہيں، وزیراعظم عمران خان سے خطے کی صورت حال پر بات ہوئی، پاکستان اور ایران مسائل بات چیت سے حل کرنے کے حامی ہیں۔ انہوں نے امریکا سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران کیساتھ جوہری معاہدہ بحال اور پابندیاں ختم کرے۔

 

ایران صدر نے مزید کہا کہ خطے میں کشیدگی کا حل یمن میں جنگ کا خاتمہ ہے، ایران خطے میں کشیدگی کم کرنے پر متفق ہے، پاکستان اور ایران پڑوسی دوست ممالک ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان سیکیورٹی اور امن سے متعلق صورتِ حال پر بھی گفتگو ہوئی پاکستانی وزیراعظم عمران خان سے حالیہ واقعات خصوصاً خلیج فارس اور دیگر معاملات پر بات کی۔ حسن روحانی نے واضح الفاظ میں کہا کہ " خطے کا امن یمن میں ایران کے امن سے وابستہ ہے"، اگر کوئی ملک سمجھتا ہے کہ خطے میں عدم استحکام کے بدلے کوئی کارروائی نہیں ہوگی تو وہ غلطی پر ہے۔

 

حسن روحانی نے مطالبہ کیا کہ یمن میں فوراً جنگ بند کی جائے، جب کہ وہاں کے عوام کی مدد بھی کی جائے، امریکا کو چاہیے کہ ایران پر عائد پابندیاں اٹھائے۔

 

مشترکا پریس کانفرنس سے خطاب میں پاکستانی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم ایران اور سعودی عرب میں جنگ نہیں چاہتے، جنگ کی صورت میں خطے میں غربت پھیلے گی۔ یہ میری صدر حسن روحانی سے تیسری ملاقات ہے۔ پاکستان ایران کے ساتھ 2 طرفہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے، پاکستان خطے میں امن و استحکام کو مضبوط کرنا چاہتا ہے۔ صدر حسن روحانی سے ملاقات کے دوران باہمی تعلقات، تجارت اور ایک دوسرے سے تعاون کے طریقہ کار پر بات ہوئی۔

عمران خان نے کہا کہ ایران ہمارا پڑوسی ملک ہے، جب کہ سعودی عرب نے ہر ضرورت پر ہماری مدد کی ہے، میرے دورے کا اہم مقصد ہے کہ ہم خطے میں ایک اور تنازع نہیں چاہتے۔ بھارت نے 80 لاکھ کشمیریوں کو قید کر رکھا ہے، مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے لیے ایران کی حمایت پر شکر گزار ہیں۔ ایرانی صدر حسن روحانی سے ملاقات میں حوصلہ افزائی ہوئی ہے، باہمی تعلقات، تجارت اور ایک دوسرے سے تعاون کے طریقہ کار پر بات ہوئی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ ایران اور سعودی عرب سے دونوں سے بہترین تعلقات ہیں اور ہم یہ ہی تعلقات قائم رکھنا چاہتے ہیں، دونوں ممالک کو یہ بات سمجھنا ہوگی کہ یہ کشیدگی اور اختلافات کسی کے مفاد میں نہیں، دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مغربی قوتوں کے مفادات میں ہے۔ اس کے پیچھے مغربی سازشیں کارفرماں ہیں۔

 

واضح رہے کہ گذشتہ ماہ اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ انہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ایران کے ساتھ تنازعات پر ثالثی کا کردار ادا کرنے کیلئے درخواست کی تھی۔ اس دوران وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی ایرانی ہم منصب کے ساتھ ایک سے زائد ہونے والی ملاقاتوں میں سعودیہ، ایران کشیدگی کے خاتمے کے سلسلے میں تبادلہ خیال کیا گیا تھا جس کے بعد وزیراعظم عمران خان کا حالیہ دورہ عمل میں آیا ہے۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں