ہوم   > اینٹرٹینمنٹ

میشا شفیع کی علی ظفر کیخلاف ایک اور درخواست مسترد

1 week ago

لاہور ہائیکورٹ نے گلوکارہ میشا شفیع کی ساتھی گلوکار علی ظفر کیخلاف درخواست مسترد کردی، خاتون محتسب اور گورنر پنجاب بھی گلوکارہ کی درخواستیں مسترد کرچکے ہیں۔ علی ظفر کا کہنا ہے کہ میشا کی یہ تیسری درخواست خارج کی گئی ہے، تمام شواہد جلد عوام کے سامنے پیش کریں گے۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے میشا شفیع کی درخواست پر سماعت کے بعد محفوظ فیصلہ سنا دیا، کیس کی سماعت میں میشا شفیع کی وکیل نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کی مؤکلہ گلوکار علی ظفر کے پاس کام کرتی تھی جہاں اسے ہراساں کیا گیا، خاتون محتسب اور گورنر پنجاب نے میشا شفیع کی جنسی ہراسانی کیخلاف شکایت غیرقانونی طور پر مسترد کی۔

میشا  شفیع نے علی ظفرکے خلاف صوبائی محتسب پنجاب کے روبرو ہراسانی کی درخواست دائرکی تھی جسے محتسب نے مسترد کردیا تھا۔ میشا نے درخواست مسترد ہونے پر گورنر پنجاب رفیق رجوانہ کے روبرو اپیل دائرکی تھی لیکن انہوں نے بھی اپیل یہ کہہ کر مسترد کردی تھی کہ میشا شفیع، گلوکار علی ظفر پر الزامات ثابت نہیں کرسکیں ۔

میشا شفیع نے محتسب اور گورنر پنجاب کی جانب سے درخواست مسترد کئے جانے کیخلاف لاہورہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔

گلوکار علی ظفر کے وکیل نے عدالت میں دلائل دیئے کہ صوبائی محتسب نے میشا شفیع کی درخواست قانون کے مطابق خارج کی، میشا شفیع گلوکار علی ظفر کے پاس ملازم نہیں تھیں، محتسب صرف مالک اور ملازم کے کیسز پر فیصلے کرسکتے ہیں۔

عدالت نے دونوں جانب کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا، جو آج سناتے ہوئے میشا شفیع کی درخواست مسترد کردی گئی۔

معروف گلوکار علی ظفر نے میشا شفیق کی درخواست خارج ہونے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ نے میشا کی درخواست خارج کردی، یہ تیسری درخواست ہے جو خارج کی گئی۔

انہوں نے الزامات کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی ایک موقع پرست کی جانب سے جھوٹے الزامات سے زندگیاں تباہ اور حقیقی متاثرین کے کیس کمزور پڑ سکتے ہیں۔

گلوکار کا مزید کہنا تھا کہ ہم ایک مثال قائم کرنے کیلئے لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے تمام شواہد جلد ہی عوام کے سامنے پیش کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اپنے چاہنے والوں کا محبت اور حمایت پر شکریہ بھی ادا کیا۔

گلوکارہ میشا شفیع نے گزشتہ سال معروف گلوکار و اداکار علی ظفر پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا تھا، جس کے جواب میں علی نے میشا کے الزامات کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے ان کیخلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا اور گلوکارہ کو 100 کروڑ روپے کا قانونی نوٹس بھجوایا تھا۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
HARASSMENT CASE, LHC, GOVERNOR PUNJAB, WOMEN OMBUDSMEN, PAKISTAN, SINGERS, MEE TO