ہوم   >  پاکستان

اسلام آباد، تاجروں کا 28 اکتوبر کو ہڑتال کا اعلان

7 days ago

پولیس نے راستہ بند کردیا




وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں احتجاج کرنے والے تاجروں کو ایف بی آر کے دفتر جانے سے روک دیا گیا جس پر تاجروں اور پولیس میں ہاتھا پائی ہوگئی جبکہ پولیس نے خاردار تاریں بچھا کر راستہ بند کردیا۔ دوسری جانب تاجروں نے 28 اور 29 اکتوبر کو شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کردیا۔


 آل پاکستان انجمن تاجران نے راولپنڈی سے اسلام آباد تک تاجر بچاؤ مارچ کا اہتمام کیا جس میں فوارہ چوک، راجہ بازار، کمرشل مارکیٹ، مری روڈ سمیت جڑواں شہروں کے تاجروں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔


مارچ کے شرکاء نے شمس آباد سے براستہ فیض آباد اسلام آباد کی جانب مارچ کیا جس کے باعث مری روڈ مختلف مقامات پر بدترین ٹریفک جام ہوگیا۔



مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے آل پاکستان انجمن تاجران سیکرٹری جنرل نعیم میر قرارداد پیش کی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ آڑھتيوں کی لائسنس فیس کم اور ویلیو ایڈڈ ٹیکس ختم کیا جائے جبکہ شناختی کارڈ کی شرط واپس لی جائے۔


قرارداد میں مزید مطالبہ کیا گیا کہ چھوٹے کاروباری طبقے کیلئے آسان شرح ٹیکس مقرر کی جائے۔ جیولرز کیلئے ٹیکس کا پرانا قانون جاری رکھا جائے۔ گاڑیوں کی مینوفیچر پر ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کی جائے۔ شادی ہالز پر20 ہزار فی فنکشن ٹیکس ختم کیا جائے اور دکانوں پر بے جا چھاپے بند کیے جائیں۔


تاجر رہنماء شاہد غفور پراچہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تاجر ٹیکس دینا چاہتے ہیں لیکن بدمعاشی سے نہیں قبول نہیں۔ تاجروں کے لیے ایسے مشکل حالات پیدا کردئیے گے کہ ہم آج سڑکوں پر آگے ہیں۔



انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تاجر برداری انتہائی مشکل حالات سے گزر رہی ہے۔ اگر تاجر بچاو مارچ کے بعد مطالبات تسلیم نہ کیے گے تو غیر معینہ مدت کے لیے ہڑتال کا اعلان کریں گے۔


تاجروں کی ریلی جب اسلام آباد پہنچ کر ایف بی آر کے دفتر کی جانب بڑھنے لگی تو پولیس نے خاردار تاریں بچھا کر راستہ بند کردیا جس پر تاجر اور پولیس آپس میں گتھم گتھا ہوگئے۔


بعد ازاں ایف بی آر اور تاجروں کے مابین مذاکرات ہوئے جس میں ایف بی آر نے شناختی کارڈ کی شرط ختم کرنے کا مطالبہ ماننے سے انکار کردیا جبکہ تاجروں نے ایف بی آر اور حکومتی مشینری پر ہراساں کرنے کا الزام بھی عائد کردیا۔


تاجروں نے کہا کہ اسسٹنٹ کمشنر رینک کے افسران ہراساں کرتے ہیں جب اس کی شکایت چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی سے کرتے ہیں تو وہ بھی بات سننے کیلئے تیار نہیں ہوتے۔



مذاکرات ناکام ہونے پر تاجروں نے احتجاج ختم کردیا اور حکومت کو 27 اکتوبر کی ڈیڈلائن دیتے ہوئے خبردار کیا کہ مطالبات تسلیم نہ ہونے پر 28 اور 29 اکتوبر کو شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جائے گی۔


واضح رہے کہ 27 اکتوبر کو مولانا فضل الرحمان نے بھی اسلام آباد میں آزادی مارچ کا اعلان کیا ہے جس میں بیشتر اپوزیشن جماعتیں بھی شرکت کریں گی۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں