ہوم   >  پاکستان

وزیراعظم کے استاد کا اسکول تنازعات کی زد میں

1 week ago

خيبرپختونخوا کے ضلع چترال ميں 1988 کو لينگ لينڈز اسکول کا بنياد رکھا گيا جو برطانوی ماہر تعلیم جیفری ڈگلس لینگ لینڈز کا دیرینہ خواب تھا۔ سر لینگ لینڈز لاہور ایچی سن کالج میں بھی معلم کی حیثیت سے تعلیمی خدمات دے چکے ہیں۔  لینگ لینڈز کے بیشتر شاگرد آج پاکستانی سیاست میں ممتاز مقام کے حامل ہیں جن میں وزیراعظم عمران خان، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، وزیردفاع پرویزخٹک اور سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار سمیت دیگر شامل ہیں۔

لینگ لینڈز اپنی زندگی میں چترال لینگ لینڈز اسکول اینڈ کالج کے تمام انتظامی امور خود سرانجام دیتے رہے۔ انہوں نے 2014 کو برطانیہ سے تعلق رکھنے والی خاتون مس کیری کو پرنسپل کی ذمہ داریاں سونپ دیں جس کے بعد چترال کے بعض حلقوں سے مس کیری پراعتراضات ہوئے مگر سرلینگ لینڈز کی موت کے بعد تعلیمی ادارے کے انتظامیہ پر الزامات سامنے لگے جو لینگ لینڈز اسکول اینڈ کالج کے اسٹاف کی جانب سے لگائے گئے۔

لینگ لینڈز ٹیچرایسوسی ایشن کے مطابق سابق حکومت میں لینگ لینڈز اسکول کے لئے 18 کروڑ جاری ہوئے تھے جس میں نئے ہال سمیت ہاسٹل اور جونیئر برانچ کا قیام ہونا تھا جو کہ ابھی تک قائم نہ ہوسکے اور نہ ان فنڈز کا آڈٹ ہوا۔ اساتذہ کرام نے الزام لگایا کہ اسکول کو پرایئویٹائز کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں جوکہ نا قابل منظور ہے۔

انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ بورڈ آف گورنرز میں ذاتی تعلق کی بنیاد پر اثررسوخ والے شخصیات کو شامل کیا گیا ہے۔ اس لیے بورڈ آف گورنرز کو تحلیل کرکے نیا بورڈ تشکیل دیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم عمران خان کے استاد انتقال کرگئے

لینگ لینڈز اسکول اینڈ کالج کے ٹیچر نے گزشتہ ہفتے انتظامی اورمبینہ مالی کرپشن کے خلاف احتجاج بھی ریکارڈ کیا تھا جس میں اسکول کے طلباء و طالبات بھی سڑکوں پر نکل آئے تھے اور ڈپٹی کمشنر لوئر چترال کے آفس کے سامنے مظاہرہ کیا۔

اسکول سٹاف نے تحریری شکل میں اپنے تحفظات ضلعی انتظامیہ کو پیش کیے اور 10 اکتوبر تک معاملات حل کرنے کی ڈیڈلائن دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بصورت دیگرکلاسز کا بایئکاٹ کرکے احتجاج شروع کردیا جایے گا۔ اساتذہ کے مطابق 64 سے زائد ٹیچر مس کیری کے خلاف شفاف انکوائری کے حق میں ہیں۔

ڈپٹی کمشنر نوید احمد نے بتایا کہ لینگ لینڈز جیسے ادارے کی ساکھ کو کچھ لوگ افواہوں کی وجہ سے متاثر کررہے ہیں۔ ادارے کو پرایئویٹائز نہیں کیا جارہا، البتہ اس کو خود مختار بنانے کے لئے قانون سازی ہورہی ہے جس کے تحت بورڈ آف گورنرز میں مزید لوگ شامل کرلئے جایئں گے جو کہ مقررہ عرصے کے لئے ہوں گے۔

لوئرچترال کے ڈی سی نے ٹیچرز سے تمام الزامات کے ثبوت بھی مانگ لئے ہیں اور یقین دہانی کروائی کہ اگر مالی بے ظابطگیوں کے شواہد موجود ہیں تو ہر حال میں انکوائری ہوگی ۔

پاکستان تحریک انصاف کے ضلعی قائدین نے بھی اس تمام ترصورتحال پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ادارے پر حکومت کے اربوں روپے خرچ ہوچکے ہیں جو کہ ہم ضائع ہونے نہیں دیں گے۔

دوسری جانب چترال کے کچھ سیاسی اور کاروباری شخصیات لینگ لینڈز کی پرنسپل مس کیری کی حمایت میں پیش پیش ہیں۔

لینگ لینڈز اسکول اینڈ کالج تنازع کی وجہ سے چترال کے شہری سب سے زیادہ پریشان ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم عمران خان اور صوبائی حکومت سے اپیل کی کہ سر لینگ لینڈز کی اس نشانی کو ڈوبنے سے بچایا جائے کیونکہ چترال جیسے پسماندہ علاقے میں لینگ لینڈز واحد تعلیمی ادارہ ہے جہاں کا تعلیمی معیار پرایئویٹ اسکولوں سے بہتر ہے۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں