ہوم   >  پاکستان

ویڈیواسکینڈل:نوازشریف کی درخواست پرنیب سےجواب طلب

1 month ago

جج ویڈیواسکینڈل سے متعلق سابق وزیراعظم نواز شریف کی 5 افراد کو عدالتی گواہ بنانے کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تحريری جواب طلب کرليا گیا۔

العزیزیہ ریفرنس میں سزا سے متعلق اپیلوں اور جج ویڈیو اسکینڈل میں نواز شریف کی متفرق درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہوئی۔

سابق وزیر اعظم نے سزا کالعدم قراردینے جبکہ نیب نے سزا 7 سال سے بڑھا کر 14 سال کرنے کی استدعا کررکھی ہے ۔

نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے مؤقف اختیار کیا کہ فیصلے پر نظر ثانی کیلئے سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا ہے۔ سپریم کورٹ کے مطابق ویڈیو ٹھیک یا غلط ہونے کا فیصلہ ہائیکورٹ نے ہی کرنا ہےاور ویڈیو ٹھیک ہونے کی صورت میں کیس پر اس کا کیا اثرا ہوا؟ یہ بھی اسی عدالت میں طے ہوگا ۔

دوران سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے سوالات اٹھائے کہ یہ بھی دیکھنا ہے کہ جج کی ویڈیو العزیزیہ فیصلے سے پہلے اثر انداز ہوئی یا نہیں؟ فیصلےکے بعد کی ویڈیو اُس فیصلے پراثر انداز کیسےہوئی؟۔ انہوں نے کہا کہ وکیل صاحب اس معاملے پر عدالت کی معاونت بھی کردیں کہ کیس کے میرٹ ، فیصلے اور ویڈیو کے اثرات میں تفریق کیسے کریں گے؟۔

مریم نواز نے جج ارشد ملک کی اعترافی ویڈیو پیش کردی

عدالت نے ویڈیو اسکینڈل کیس میں نواز شریف کی متفرق درخواست پر نیب سے تحریری جواب طلب کرلیا جس کے بعد العزیزیہ ریفرنس میں اپیلوں اور دیگر درخواستوں پر سماعت 2 ہفتے کیلئےملتوی کردی گئی ۔

یاد رہے کہ نوازشریف نے قانونی داؤ استعمال کرتے ہوئے گزشتہ روز ہائیکورٹ میں 5 متعلقہ افراد کو عدالتی گواہ بنانے کی درخواست دائرکرتے ہوئے موقف اختیارکیا ہے کہ مرکزی اپیل کے منصفانہ فیصلے کیلئے گواہوں کا بیان ضروری ہے۔

ارشد ملک کو ہٹانے کے فیصلے پر مریم نوازکا ردعمل

درخواست میں کہا گیا ہے کہ برطانوی فرانزک ماہر،آڈیو فرانزک ماہر،موبائل فون کا فرانزک کرنے والے ماہر اور ریکارڈ تحویل میں لینے والے کے بطور گواہان بیانات ریکارڈ کیے جائیں۔ بیان عدالت یا پھر پاکستانی ہائی کمیشن کے ذریعے قلمبند کیا جائے۔

پس منظر

مریم نواز نے 6 جولائی صدر ن لیگ شہباز شریف کے ہمراہ کی جانے والی ایک پریس کانفرنس کے دوران العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کو سزا سنانے والے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو میڈیا کے سامنے پیش کی تھی۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں