Tuesday, November 24, 2020  | 7 Rabiulakhir, 1442
ہوم   > پاکستان

مقتول مرید عباس کی اہلیہ نے ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا

SAMAA | - Posted: Oct 1, 2019 | Last Updated: 1 year ago
SAMAA |
Posted: Oct 1, 2019 | Last Updated: 1 year ago

مقدمہ میں دہشت گردی کی دفعات شامل کرنے کی درخواست

مقتول اینکر مرید عباس کی اہلیہ نے اپنے شوہر کے قتل کا مقدمہ سیشن کورٹ منتقل کرنے کا فیصلہ سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا۔ گزشتہ روز انسداد دہشت گردی عدالت نے مقدمہ سول عدالت منتقل کرنے کا فیصلہ سنایا تھا۔

اینکر مرید عباس اور خضرحیات کے قتل کو تین ماہ ہوگئے مگر مقدمہ ابھی تک ایک عدالت سے دوسری عدالت میں ہی منتقل کرنے کا معاملہ حل نہیں ہوسکا۔ مقتول مرید عباس کی اہلیہ نے کیس میں سے دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے کا فیصلہ ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔

زارا عباس نے کہا ہے کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے شاید چارج شیٹ  پڑھی ہی نہیں۔ مرید عباس کے ساتھ سرعام قتل کیے جانے والے خضر حیات کا فیصلے میں ذکر تک نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ مرکزی ملزم عاطف زمان کے بھائی عادل زمان کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا جبکہ مقدمہ کے چشم دید گواہ عمر ریحان کو دھمکیاں بھی مل رہی ہیں۔

زارا عباس نے سندھ ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ اے ٹی سی نے حقائق کو نظرانداز کرکے انسداد دہشت گردی کی دفعات ختم کیں۔ عاطف زمان نے مرید عباس اور خضر حیات کو قتل کرکے شہر میں خوف و ہراس پھیلایا۔ لہذا مقدمہ انسداد دہشت گردی عدالت میں ہی چلانے کا حکم دیا جائے۔

گزشتہ روز ملزم عاطف زمان کی درخواست پر انسداد دہشتگردی کی عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد مقدمہ کو لین دین کے ذاتی تنازع قرار دے کر سیشن کورٹ میں چلانے کا حکم دیا تھا۔

 انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ شواہد اور دلائل سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عاطف زمان نے لین دین کے تنازع پر قتل کیا اور قتل کی واردات دفتر کے اندر ہوئی۔ اس میں دہشت گردی کی دفعات شامل نہیں کی جاسکتی۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube