Monday, November 23, 2020  | 6 Rabiulakhir, 1442
ہوم   > پاکستان

قندیل قتل کیس: بھائی کوعمرقید،مفتی قوی بری

SAMAA | - Posted: Sep 27, 2019 | Last Updated: 1 year ago
SAMAA |
Posted: Sep 27, 2019 | Last Updated: 1 year ago

ملتان کی ماڈل کورٹ نے سال 2016 میں بھائی کے ہاتھوں غیرت کے نام پر ماری جانے والی اداکارہ وماڈل قندیل بلوچ کے قتل کیس کا فیصلہ سنادیا۔ مرکزی ملزم محمد وسیم کو عمر قید کی سزا جبکہ مفتی قوی سمیت دیگر ملزمان کو بری کردیا گیا۔

قندیل بلوچ کو بھائی وسیم نے 15 جولائی 2016 کی شب ملتان میں غیرت کے نام پر قتل کردیا تھا۔

وکلاء اور پراسیکویشن کے دلائل مکمل ہونے کے بعد ماڈل کورٹ ملتان نے فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جو آج سنایا گیا۔

یہ کیس 3 سال 2 ماہ اور 11 دن تک عدالت میں زیر سماعت رہا۔ کیس کی ابتدائی سماعتیں علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں ہوئی تھیں جہاں سے رواں سال اسے ماڈل کورٹ منتقل کیا گیا تھا جس نے روزانہ کی بنیادوں پر سماعت کی۔

قندیل بلوچ کو قتل کردیا گیا

 

قتل کیس کی ابتدائی تفتیش کے بعد پولیس نے کہا کہ قندیل کا بھائی وسیم  ان کی بولڈ تصاویر اور سوشل میڈیا پر ماڈل کی سرگرمیوں سے نالاں تھا، اسی لیے جب وہ والدین سے ملنے ملتان گئیں تو وہ ماڈل کو سوتے میں ہی غیرت کے نام پر قتل کرکے فرار ہوگیا۔

قندیل کے بھائی وسیم نےگرفتاری کے بعد اعتراف کیا کہ قتل میں نے کیا ہے ۔ وسیم کا کہنا تھا کہ قندیل بلوچ خاندان کے لیے رسوائی کا سبب بن رہی تھی لیکن بعد میں جب فرد جرم عائد کی گئی تووسیم نے صحت جرم سے انکار کردیا تھا۔

کیس میں نامزد دیگر ملزمان میں مفتی عبدالقوی، قندیل کا بھائی اسلم شاہین، عبدالباسط، ظفراقبال، حق نواز ، عارف نامزد ملزمان شامل تھے جن پر فرد جرم بھی عائد کی گئی تھی۔ محمد وسیم اور اسلم شاہین قندیل کے سگے بھائی ہیں جبکہ حق نواز قریبی رشتہ دار ہے۔

قندیل بلوچ کا ذکر برطانوی پارلیمنٹ میں بھی

 

اشتہاری قرار دیا جانے والے ملزم عارف کے متعلق پولیس کا کہنا ہے کہ وہ بھی قندیل بلوچ کا بھائی ہے۔ جبکہ اسلم شاہین پر محمد وسیم کو قتل کیلئے ورغلانے کا الزام ہے۔ سعودیہ میں مقیم اسلم شاہین کو رواں سال انٹرپول کی مدد سے گرفتار کیا گیا تھا۔

قندیل کے والد اسلم ماہڑہ نے بیٹی کے قتل کے الزام میں گرفتار تینوں بیٹوں وسیم، عارف اور اسلم شاہین کو معاف کرنے کی درخواست دائر کی تھی جسے عدالت نے مسترد کردیا تھا۔

عدالت کے مطابق قندیل بلوچ کے بھائیوں کو معاف کرنے سے دیگر ملزمان پر بھی فرق پڑے گا۔

 

مفتی قوی کیس میں کیوں نامزد تھے؟

قندیل بلوچ کو ماہ رمضان میں مفتی عبدالقوی سے ملاقات کر کے سیلفیز سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنے کے بعد مختلف حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔  سیلفیز اورویڈیوز منظر عام پر آنے کے بعد مفتی عبد القوی کو رویت ہلال کمیٹی کی رکنیت سے بھی محروم ہونا پڑا تھا۔

 

غیرت کے نام پر قتل کے قانون میں ترمیم

قندیل بلوچ کے قتل کے بعد نامناسب قانون سازی کے خلاف آنے والے ردعمل پر سال 2016 میں پارلیمنٹ نے غیرت کے نام پر قتل کے قانون میں ترمیم منظور کی تھی۔ ترمیم کے تحت مرنے والے کے لواحقین اگر معاف کر بھی دیں اس کے باوجود قتل کرنے والے کو عمر قید کی سزا ہوگی۔

پاکستان میں عام طور پرغیرت کے نام پر قتل کے زیادہ ترمقدمات میں یہ ہوتا تھا کہ قتل کرنے والے کے ماں باپ یا بہن بھائی ہی مدعی ہوتے تھےجن کی جانب سے معاف کر دیے جانے پر مقدمہ ختم ہو جاتا تھا۔

یہ کیس سیاسی اور سماجی حلقوں میں کافی عرصہ زیر بحث رہا جبکہ انٹرنیشنل میڈیا نے بھی اسے بھرپور کوریج دی تھی۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube