ہوم   >  پاکستان

چونیاں: بچوں کوقتل کرنیوالے کے سرکی قیمت 50 لاکھ مقرر

4 weeks ago

ٹرائل اسپیشل کورٹ میں ہوگا، قصورمیں چائلڈپروٹیکشن سیل بنانے کااعلان



پنجاب حکومت نے قصور کے علاقے چونیاں میں بچوں کے اغواء اور قتل میں ملوث ملزمان کے سر کی قیمت مقرر کردی۔ وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا ہے کہ قاتل کی اطلاع دینے والے کو 50 لاکھ روپے انعام دیا جائے گا، مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات شامل ہوگئیں، ٹرائل اسپیشل کورٹ میں ہوگا۔ عثمان بزدار نے قصور میں چائلڈ پروٹیکشن سیل بنانے کا اعلان کردیا۔


وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے چونیاں میں اغواء کے بعد قتل کئے گئے بچے فیضان کے والدین سے ملاقات کی، جس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ چونياں واقعے پر تمام پوليس افسران کو معطل کردیا گیا، ملزمان کو گرفتار کرکے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔


متاثرہ خاندان سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دکھ کی گھڑی میں آپ کے ساتھ ہیں، رات ڈھائی بجے ایئرپورٹ پر ہنگامی ميٹنگ کی اور آج متاثرين کے پاس پہنچا ہوں۔



مزید جانیے : چونیاں میں بچوں کے قاتل پکڑنے کےلیے دائرہ کار وسیع


پنجاب کے ضلع قصور کے علاقے چونیاں سے چند روز قبل تین بچوں کی لاشیں برآمد ہوئی تھیں، جن میں سے ایک کی شناخت فیضان کے نام سے ہوئی جبکہ دو لاشیں ناقابل شناخت ہونے کے باعث ٹیسٹ کیلئے لیبارٹری بھیج دی گئی تھیں، لاشوں کی شناخت کیلئے شہر سے اغواء ہونیوالے بچوں کے والدین کے ڈی این اے سیمپل بھی لیباری بھجوائے گئے۔


وزيراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار میڈیا سے گفتگو کے دوران قصور ميں چائلڈ پروٹيکشن سيل بنانے کا اعلان کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ فارنزک ایجنسی ڈی این اے ٹیسٹ کررہی ہے، چونياں کيس ميں کسی قسم کا دباؤ نہيں، تفتيش ميرٹ پر ہوگی، پوليس کو جو وسائل چاہئیں حکومت فوری فراہم کرے گی، پنجاب پولیس میں کالی بھیڑوں کو برداشت نہیں کریں گے۔


عثمان بزدار نے اعلان کیا کہ ملزمان کے بارے ميں اطلاع دينے والے کو 50 لاکھ روپے انعام دیا جائے گا، مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات شامل ہوگئیں، کیس کا ٹرائل اسپیشل کورٹ میں ہوگا۔


اس سے قبل گزشتہ سال قصور میں زینب سمیت کئی بچوں اور بچیوں کو اغواء کے بعد قتل کردیا گیا تھا، زینب قتل کیس کے مجرم عمران کو گرفتار کرکے پھانسی کی سزا دی گئی تھی تاہم بچوں کے اغواء کے واقعات اب بھی جاری ہیں، تازہ واقعات کے الزام میں 9 مشتبہ افراد کو گرفتار جاچکا ہے، پولیس نے تفتیش کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے دیگر علاقوں تک پھیلا دیا ہے۔

 
TOPICS:

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں