ہوم   >  پاکستان

چونیاں میں بچوں کے قاتل پکڑنے کےلیے دائرہ کار وسیع

2 months ago

ابتدائی رپورٹ میں پولیس غفلت کی مرتکب قرار

قصور کی تحصیل چونياں ميں تين بچوں کے لرزہ خيز قتل کے بعد ايک اور بچے کو اغوا کرنے کی کوشش ناکام ہوگئی۔

 جمعرات کو 2 برقع پوش ملزمان نے 12 سالہ علی کو ہاشم چوک سے اغوا کرنے کی کوشش کی۔ بچہ بہادری دکھاتے ہوئے اغواء کاروں کے چنگل سے نکلنے کے لیے بھاگا اور اس دوران گر کر زخمی ہوگیا، بچے کو طبی امداد کیلئے اسپتال منتقل کیا گیا۔

چونياں ميں کل تمام سرکاری اسکول بند رہيں گے جبکہ آج بھی نجی اسکولز آج بند رکھے گئے تھے۔ فيصلہ متاثرہ بچوں سے اظہار يکجہتی کے ليے کيا گيا۔

ابتدائی رپورٹ

دوسری جانب ايڈيشنل آئی جی اظہر حميد کھوکھر نے 3 بچوں کے اغواء کے بعد قتل کی ابتدائی رپورٹ آئی جی پنجاب کوجمع کروا دی جس میں پولیس کی غفلت سامنےآئی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اغوا کے پہلےمقدمے پرسنجیدگی کا مظاہرہ کیا جاتا تواتنا بڑا سانحہ نہ ہوتا۔ ايس ايچ او اورڈی ايس پی اغواکاروں کا سراغ لگانے کے بجائے ورثاء کو ايدھی سینٹر کے چکر لگواتے رہے۔

نو مشتبہ افراد گرفتار

دوسری جانب پولیس نے بچوں کے اغوا اور قتل کے کیس میں 9 مشتبہ افراد کو حراست ميں لیا ہےجن کا ڈی این اے ٹیسٹ کرایا جائے گا جبکہ علاقے کے رہائشيوں کے کوائف بھی اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔

تفتيشی اداروں نے سراغ لگانے کے ليے پورے علاقے کی مردم شماری اور ووٹر لسٹيں منگوا لی ہيں۔لسٹوں کے مطابق تمام مردوں کے ڈی اين اے سيمپل ليے جائيں گے۔ زينب کيس کی تفتيش کی طرز پر کوئی مرد ٹيسٹ کے عمل سے باہر نہيں رہے گا۔ابھی تک 35 مشتبہ افراد کے ڈی اين اے سيمپل ليے جا چکے ہيں۔

وزیراعلی پنجاب کےزیرصدارت رات گئےایئرپورٹ پراجلاس

پولیس کے مطابق ملزم اسی علاقے کا ہے اور شبہ ہے کہ مغوی بچے ملزمان سے واقف تھے اس لیے بچے مطمئن ہو کر ہی ساتھ گئے۔ تینوں بچے ایک کلومیٹر کے علاقے میں ہی اغوا ہوئے۔

پس منظر

واضح رہے کہ کچھ روز قبل چونیاں کے علاقے سے لاپتہ ایک بچے کی لاش اور 2 کی باقیات ملنے کے بعد مقامی افراد نے تھانہ سٹی اسٹیشن کے باہر احتجاج کرتے ہوئے ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا جس کے بعد وزیراعظم عمران خان نے نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی کی زیر نگرانی تفتیش کے احکامات جاری کیے۔

چونیاں میں بچوں کے قتل کا کیس، 9مشتبہ افراد زیرحراست

آئی جی پنجاب نے قصور واقعے کے بعد پولیس افسران کے تقرر و تبادلہ کے احکامات جاری کرتے ہوئے متعلقہ ڈی ایس پی اور ايس ايچ او کو معطل کرديا تھا۔ ڈی پی او اور ایس پی انوسٹی گیشن قصور کو او ایس ڈی بنا ديا جبکہ ڈی ایس پی انٹیلی جنس لاہور شمس الحق کو ایس ڈی پی او چونیاں تعینات کردیا گیا۔

 
TOPICS:

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں