ہوم   >  پاکستان

جسٹس عیسیٰ کیخلاف ریفرنس، فل کورٹ تشکیل دینے کا حکم

1 month ago

عدالت عظمیٰ نے صدارتی ریفرنس کےخلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی استدعا منظور کرتے ہوئے ’’فل کورٹ‘‘ تشکیل دینے کا حکم دے دیا۔

تحریری حکم نامے کے مطابق دونوں معزز جج جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس سردار طارق کے انکار کے بعد بینچ تحلیل ہوگیا لہٰذا سے وابستہ افراد کے اعتماد اور شفافیت کے لیے معاملہ پر فل کورٹ تشکیل دی جائے۔

حکم نامے میں لکھا گیا ہے کہ عدالتی وقفہ کے دوران بینچ کے ججز نے آپس میں گفتگو کی جس کے بعد سپریم کورٹ کے وقار اور بحث مباحثہ سے بچنے کےلیے دو ساتھیوں نے خود کو مقدمے سے الگ کرلیا۔

جسٹس عیسیٰ ریفرنس کیس،سماعت کرنے والابینچ ٹوٹ گیا

حکم نامے میں درج ہے کہ موجودہ مقدمے میں کسی جج کا ایسا کوئی ممکنہ مفاد نہیں البتہ کسی قسم کا ٹھوس ذاتی مفاد کسی جج کے الگ ہونے کا جواز ہوسکتا ہے لیکن بينچ میں شریک ججز پر اعتراضات میں کوئی وزن نہیں۔

درخواست گزار کے مطابق بينچ کے دو ججز کا مقدمے میں ممکنہ مفاد ہے جس کے پیش نظر دونوں ججز کو مقدمے کی سماعت سے الگ ہونا چاہیے۔

گزشتہ روز جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی درخواست پر سماعت کرنے والا بینچ ٹوٹنے پر عدالت نے نئے بینچ کی تشکیل کیلئے معاملہ چیف جسٹس کو بھجوا دیا تھا۔

جسٹس فائز عیسیٰ کے وکیل منیر ملک نے اعتراض اٹھایا تھا کہ بینچ کے 2 ممبران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی برطرفی پر چیف جسٹس بنیں گے اس طرح دونوں ججز کا ذاتی مفاد کیس میں شامل ہے اس لیے دونوں ججز کیس کی سماعت کیلئے اہل نہیں۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں