ہوم   >  پاکستان

شاہد خاقان عباسی کو پَرول پر رہا کرنے کا حکم

1 month ago

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو پَرول پر رہا کرنے کا حکم دے ديا۔

ایل این جی کیس میں گرفتار شاہد خاقان عباسی کی ہمشیرہ سعدیہ عباسی نے پیر 16 ستمبر کی صبح پَرول پر رہائی کی درخواست دائر کی تھی۔

عدالت کی جانب سے شاہد خاقان عباسی کو تايا کی نماز جنازہ ميں شرکت کی مشروط اجازت دی گئی ہے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ شاہد خاقان عباسی کے چچا بریگیڈیئر (ر) تاج عباسی انتقال کر گئے ہیں اور چام 5 بجے جنازہ ہے لہٰذا نماز جنازہ میں شرکت کےلیے پَرول پر رہائی دی جائے۔ شاہد خاقان کو رہائی دی جائے تو جنازے کا وقت بھی تبدیل کر سکتے ہیں۔

شاہد خاقان عباسی کا مزید 14 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

درخواست پر سماعت کے دوران سعدیہ عباسی نے عدالت کو بتایا کہ صبح نیب کے دفتر گئی تو کہا گیا عدالت اجازت دے سکتی ہے جس پر جج محمد بشیر نے پراسیکیوٹر کو دلائل کےلیے طلب کیا۔ تفتیشی افسر کے عدالت میں پیش ہونے تک درخواست پر سماعت مؤخر رہی۔

پراسیکیوٹر نیب نے شاہد خاقان کی پَرول پر رہائی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ جسمانی ریمانڈ میں پَرول پر رہائی نہیں دی جاتی اور نیب قانون کے مطابق بھی کسی ملزم کو اس طرح کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

سعدیہ عباسی نے دلائل میں کہا کہ انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر درخواست دائر کی ہے خدانخواستہ روزانہ ایسی درخواست نہیں کی جاتی۔ شاہد عباسی کو جسمانی ریمانڈ پر 60 دن سے زائد ہوچکے ہیں اور اب مزید کیا تفتیش ہونی ہے۔ یہ کوئی ایسا جواز نہیں۔

 عدالت نے دونوں طرف کے دلائل سننے کے بعد شاہد خاقان عباسی کو پَرول پر رہا کرنے کا حکم دیا۔ نیب نے سابق وزیراعظم کو 8 جولائی کو حراست میں لیا تھا۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں