ہوم   >  پاکستان

مریم نوازپارٹی کی نائب صدر رہینگی یا نہیں؟فیصلہ آج متوقع

4 weeks ago

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے مریم نواز کی پارٹی نائب صدارت کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا، جو آج منگل 17 ستمبر کو متوقع ہے۔

چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں تين رکنی کمیشن نے پی ٹی آئی کی رکن اسمبلی کی درخواست پر سماعت کی۔ پی ٹی آئی کے وکیل حسن مان نے دلائل میں مؤقف اپنایا کہ سپریم کورٹ واضع طور پر کہہ چکی ہے کہ نااہل اور سزا یافتہ شخص پارٹی صدارت نہیں رکھ سکتا۔

درخواست گزار کے وکیل کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن ایکٹ کی شق 203 پارٹی عہدہ سے متعلق ہے، سپریم کورٹ نے شق 203 کو آرٹیکل 62 ، 63 اور 63 اے کیساتھ ملا کر پڑھنے کا کہا ہے، مریم نواز سزا یافتہ ہیں پارٹی عہدہ رکھنے کے لئے اہل نہیں۔

اس موقع پر الیکشن کمیشن کے ممبر خیبرپختونخوا ارشاد قیصر نے ریمارکس دیئے کہ عدالتی فیصلہ الیکشن ایکٹ نافذ ہونے سے پہلے کا ہے۔ الیکشن ایکٹ میں نااہل سزا یافتہ شخص پر پارٹی صدارت یا عہدہ رکھنے کی ممانعت نہیں ہے۔

مريم نواز کے وکيل بیرسٹر ظفراللہ نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین کی کسی شق کو قانون کے ساتھ ملا کر نہیں دیکھا جا سکتا۔ پارٹی کا حصہ بننا اور عہدہ رکھنا کسی بھی شخص کا بنیادی حق ہے۔

انہوں نے بے نظیر بھٹو کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ ديتے ہوئے کہا کہ  پرانے عدالتی فیصلوں کے مطابق فیصلے کرنا الیکشن کمیشن کیلئے لازم نہیں۔ فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر الیکشن کميشن آف پاکستان  نے مريم نواز کے پارٹی عہدہ کیس کا فیصلہ محفوظ کرليا جو 17 ستمبر کی صبح گيارہ بجے سنايا جائے گا۔

پس منظر

واضح رہے کہ حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے چار اراکین قومی اسمبلی کی جانب سے مریم نواز کی بطور نائب صدر ن لیگ مقرر ہونے کے خلاف درخواست دائر کی گئی تھی۔ درخواست گزار کے وکیل نے موقف پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ نواز شریف کے کیس میں سپریم کورٹ نے آرٹیکل 62 اور 63 کا استعمال کرتے ہوئے انہیں پارٹی میں عہدہ رکھنے سے نا اہل قرار دیا اور یہی چیز مریم نواز کے لیے بھی استعمال کی جانی چاہیے۔

 

پی ٹی آئی کی درخواست پر مسلم لیگ (ن) کی رہنما نے الیکشن کمیشن سے درخواست مسترد کرنے کی استدعا کی تھی اور موقف اپنایا تھا کہ آئین اور الیکشن ایکٹ میں سزا یافتہ شخص پر پارٹی کے نائب صدر ہونے کے حوالے سے کوئی پابندی نہیں۔

ن لیگ کا اعلامیہ

یاد رہے کہ 3 مئی کو صدر ن لیگ شہباز شریف نے لندن سے اعلامیہ جاری کیا تھا جس کے مطابق نائب صدور کی 16 رکنی فہرست میں مریم نواز کے علاوہ حمزہ شہباز اور خواجہ سعد رفیق کے نام بھی شامل تھے، جب کہ اسحاق ڈار انٹرنیشنل افیئرز کے صدر اور نزہت صادق خواتین ونگ کی صدر مقرر کی گئی تھیں۔

 

اعلامیے کے مطابق احسن اقبال مرکزی سیکریٹری جنرل، شاہد خاقان عباسی سینیر نائب صدر، مریم اورنگزیب سیکریٹری اطلاعات اور پرویز ملک سیکریٹری فنانس مقرر کیے گئے تھے۔

ایون فیلڈ کیس میں مریم نواز کو سزا

جولائی 2018 میں احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز کو والد کے اثاثے چھپانے کی سازش میں مرکزی کردار ادا کرنے اور جعلی ٹرسٹ ڈیڈ جمع کرانے پر 7 سال اور نیب کے ساتھ تعاون نہ کرنے پر ایک سال قید سنائی تھی۔ سزا کے بعد وہ انتخابات میں شرکت سے نااہل ہوگئی تھیں۔ تاہم جنوری میں عدالت عظمیٰ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے مریم نواز اور ان کے والد کو سنائی گئی قید کی سزا معطل کردی تھی۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں