ہوم   >  پاکستان

گھوٹکی میں مندر پر حملے کا مقدمہ 50 افراد کیخلاف درج

1 month ago

سندھ کے شہر گھوٹکی میں توہین رسالت کے مبینہ واقعے کے بعد مندر پر حملہ کرنے کے الزام میں 50 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔

مقدمہ سرکار کی مدعیت میں تھانہ اے سیکشن پر درج کیا گیا جس میں مندر پر حملہ، توڑ پھوڑ اور بے حرمتی کرنے کی دفعات شامل ہیں۔ مقدمے میں 23 نامزد سمیت مجموعی طور پر 50 ملزمان شامل ہیں۔

گزشتہ روز گھوٹکی میں اسکول پرنسپل پر توہین رسالت کا الزام لگنے پر ہڑتال کے بعد پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی تھی۔ مذہبی جماعتوں کی جانب سے شٹر ڈاؤن ہڑتال کے باعث شہر کے تمام کاروباری مراکز مکمل طور پر بند رہے۔

ہفتہ 14 ستمبر کو ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے سندھ پبلک اسکول کے پرنسپل پر ایک طالب علم نے توہین رسالت کا الزام لگایا تھا۔

پولیس کے مطابق واقعے کے بعد ملزم اہل خانہ سمیت روپوش ہوگیا تھا، جسے اتوار کو گرفتار کرکے توہین رسالت کا مقدمہ 295 سی کے تحت درج کر لیا گیا۔

میرپورخاص، ہندو ڈاکٹر کے خلاف ’توہین قرآن‘ کے الزام میں مقدمہ درج

ایڈیشنل آئی جی سکھر ڈاکٹر جمیل احمد کا کہنا ہے کہ ملزم پولیس کی تحویل میں ہے اور حقائق کی تصدیق کے بعد قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

معاملے پر صوبائی وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی کہتے ہیں کہ گھوٹکی واقعہ کی ایف آئی آر گذشتہ روز درج ہوچکی ہے اور نامزد پرنسپل کو آج گرفتار کرلیا گیا ہے۔

سعید غنی نے کہا کہ واقعہ کی مکمل غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائے گی کیونکہ واقعہ ایک شخص کا ذاتی فعل ہے لہٰذا اس میں پوری ہندو برادری کا کوئی قصور نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی جذبات کی قدر کرتے ہیں لیکن ایک شخص کی بنیاد پر پوری برادری کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ الزام ثابت ہوا تو ملزم کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

سعید غنی کا کہنا تھا کہ علماء کرام اور عوام سے اپیل ہے کہ پرامن رہیں۔ ہم علماء کرام اور ہندو برادری کے رہنماؤں کے بھی مشکور ہیں کہ انہوں نے قیام امن کےلیے اپنا کردار ادا کیا ہے۔

ایک سماجی کارکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر سماء ڈیجیٹل سے گفتگو میں کہا کہ سندھ حکومت اور ان کے وزراء ملزمان کو گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لانے میں سنجیدہ نظر آرہے ہیں، علاقے کے مسلمان مندر اور اپنے ہندو برادری کی حفاظت کیلئے ہندو بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ لوگ اب بھی خود کو غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں، وہ مذہب کے نام پر زیادتی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں