ہوم   >  پاکستان

نیشنل بینک اور اسٹیٹ لائف کی نجکاری پر غور

1 month ago

مشیر خزانہ حفیظ شیخ کی اسلام آباد میں پریس کانفرنس



مشیر خزانہ حفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ نیشنل بینک اور اسٹیٹ لائف کی نجکاری پر غور کیا جا رہا ہے جبکہ بڑی کمپنیاں جو اپنا نظام چلا رہی ہیں ان کی بھی نجکاری کریں گے۔


اتوار 15 ستمبر کو اسلام آباد میں چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مشیر خزانہ نے کہا کہ 10 کمپنیاں نجکاری کیلئے آئی ہیں اس لیے فیصلہ کیا ہے کہ نجکاری کے عمل میں تیزی لائی جائے۔


مشیر خزانہ نے کہا کہ رواں سال اب تک 580 ارب کا ٹیکس جمع کیا گیا جبکہ ٹیکس نیٹ میں 6 لاکھ کا اضافہ کیا۔ ٹیکس فائلرز کی تعداد 19 سے بڑھ کر 25 لاکھ ہوگئی جبکہ سیلز ٹیکس ریفنڈ کے 22 ارب ادا ہو چکے۔


حفیظ شیخ نے کہا کہ ملکی معیشت بحران سے استحکام کی طرف بڑھ گئی ہے۔ روپے کی قدر مستحکم ہے اور اسٹاک مارکیٹ بھی اب بہتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستانی عوام کےلیے کام کر رہی ہے لیکن ٹیکسز کے معاملے پر کوئی سودے بازی نہیں ہوگی۔


مشیر خزانہ نے کہا کہ ٹیکس ریونیو کےلیے 5.5 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا ہے جبکہ کرنٹ اکاونٹ خسارے میں 73 فیصد کمی کی گئی۔ پچھلے سال کے مقابلے میں برآمدات میں اضافہ اور درآمدات میں کمی لائی گئی۔


حفیظ شیخ نے کہا کہ مہنگائی پر قابو پانا ایک چیلنج ہے اور حکومت مہنگائی کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اسی طرح پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی کمی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہر جون گردشی قرض کی مد میں 38 ارب کا اضافہ ہوتا تھا لیکن ہم نے گردشی قرض میں 100 ارب کمی کی ہے اور بجلی چوری روکی گئی۔


مشیر خزانہ نے کہا کہ موجودہ حکومت آئی تو معاشی اعشاریے پریشان کن تھے لہٰذا فوری طور پر معاشی اصلاحات کے ذریعے قتصادی صورتحال کو بہتر کیا۔ ماضی کی پالیسیوں کے باعث ملک دیوالیہ ہونے جا رہا تھا۔


انکا کہنا تھا کہ کفایت شعاری مہم کے تحت کابینہ ارکان نے اپنی تنخواہوں میں کمی اور حکومت نے اپنے اخراجات کم کیے۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں