ہوم   >  پاکستان

پچاس کروڑسےزائدکرپشن پر جیل میں سی کلاس ملےگی

2 months ago

وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے جیل قوانین میں ترمیم کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ 50 کروڑ روپے سے زائد کرپشن کے ملزم کو جیل میں بہتر کلاس کی سہولت ختم کر دی جائے گی۔  سیاستدان ہو یا سرکاری افسر، سب کو عام قیدی کے طور پر ہی رکھا جائے گا۔

اسلام آباد میں معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے وزرائے قانون کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے  کہا کہ نئے قوانین سے ججز، وکلا اور عوام کو آگاہ کرنے کی ضرورت ہے، شکایات آرہی تھیں کہ جیل میں بڑی کرپشن کرنے والوں کو سہولیات دی جاتی ہیں لیکن اب نیب میں کسی پر 50 کروڑ روپے سے زائد کی کرپشن کا الزام ہوا تو اس کو جیل میں سی کلاس ملے گی۔ سابق سیاستدان ہو یا سرکاری افسر عام قیدی کے طور پر ہی رکھا جائے گا۔  انہوں نے کہا 50 کروڑ سے زائد کرپشن کے ملزم کو جیل میں بہتر کلاس کی سہولت ختم ہوگی 50 کروڑ سے کم کرپشن ہوئی تو سہولتوں کا استحقاق ہوگا۔

انہوں نے  کہا کہ ملک میں لیگل ایڈ اینڈ جسٹس اتھارٹی کا قانون جلد لارہے ہیں،جس کا فوکس بچوں اور خواتین کے جرائم کی طرف ہوگا، جو لوگ وکیل نہیں کرسکتے، وہ کئی سالوں سے جیلوں میں پڑے رہتے ہیں لیکن خواتین کو اب اپنے حق کے لیے عدالتوں کے چکر نہیں کاٹنا پڑیں گے، خواتین کی جائیداد سے متعلق خواتین محتسب سول کورٹ میں ریفرنس دائر کرے گی۔

تارکین وطن اور اووسیز کی جائیداد

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور تارکین وطن سے متعلق وفاقی وزیر قانون کا کہنا تھا کہ اوور سیز پاکستانیوں کی جائیداد سے متعلق نیا قانون لایا جا رہا ہے، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے مسائل بھی حل کیے جائیں گے، بے نامی لین دین کے قوانین کو بھی بہتر کیا جا رہا ہے، غریب پاکستانی کی سہولت کیلئے قوانین کو تبدیل کیا جا رہا ہے، تارکین وطن کی جائیدادوں سے متعلق بھی قانون لا رہے ہیں، قوانین بنانے میں اسٹیک ہولڈرز سے بھی بات چیت ہوئی، ہر قانون سازی میں وزیراعظم کی گائیڈ لائن ملتی رہی ہے۔

سندھ میں آرٹیکل 149 کا اطلاق؟

سندھ میں آرٹیکل 149 کی خبروں پر فروغ نسیم نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ صوبوں کو قوانین میں بہتری لانے کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے، وزیراعظم اور اتحادی انصاف کی فراہمی کیلئے کھڑے ہیں، قانون سازی ميں پنجاب اور خيبرپختونخوا ہمارے ساتھ ہيں۔ کراچی سے متعلق وزیر قانون نے کہا کہ کراچی کو سندھ سے کبھی بھی الگ نہيں ہونے ديںگے، ميرے ساتھ کميٹی ميں بيٹھنا نہ بيٹھنا پيپلزپارٹی کی صوابديد ہے، ہم تو خود کہتے ہیں کہ کراچی کو سندھ سے الگ نہیں ہونے دیں گے، کسی آئینی ترمیم کے لیے ہمارے پاس نمبرز پورے نہیں، 149سے متعلق چیزوں کو کمیٹی نے فائنل کرنا ہے۔

آرٹیکل 149 سے متعلق وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ آرٹیکل 149کے نفاذ سے متعلق ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا، اگر لوگ آرٹیکل 149 میں کوئی ایسی چیز پڑھیں جو نہیں لکھی ہوئی تو میں کیا کر سکتا ہوں۔ میں نے نئے صوبے کی بات نہیں کی، میرے بیان پر سیاست کی جارہی ہے، جب کہ اندرون سندھ میں ایڈز اور ہیپاٹائٹس پھیل چکا ہے، کراچی کی بہتری سے سب سے زیادہ فائدہ سندھ کا ہے، کراچی اسٹریٹجک کمیٹی نے معاملات کو حتمی شکل نہیں دی، کمیٹی سے متعلق رابطہ کرنا وفاق کا صوابدید ہے، ناصر شاہ اچھے آدمی ہیں ضرورت پڑی تو رابطہ کریں گے۔

ملک کا عدالتی نظام

فروغ نسیم نے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی ویڈیو لنک کے ذریعہ عدالت قائم کرنے کو سراہتا ہوں، ہم بھی ماتحت عدالتوں میں ویڈیو لنک کو متعارف کرانے جارہے ہیں، بے نامی ٹرانزیکشن قانون میں وسل بلور قانون کو شامل کررہے ہیں جب کہ پنجاب اور کے پی کے میں نئے قوانین جلد رائج ہوجائیں گے اور بلوچستان کے وزیراعلی سے بھی ان قوانین سے متعلق جلد بات ہوگی، سندھ حکومت بھی اگر چاہے تو یہ اچھے قوانین رائج کرے، ہم ویلکم کریں گے۔

فردوس عاشق اعوان

اس سے قبل فردوش عاشق اعوان نے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ان قوانین کو بدل رہی ہے جو گلے سڑے نظام سے ملک کو باہر نکالنے میں رکاوٹ تھے جب کہ وزیراعظم پاکستان کی طرف سے کل کشمیر کاز کے لیے مظفرآباد پہنچنے والے ہر فرد کا شکریہ ادا کرتی ہوں، اپوزیشن اپنا کشمیر ایشو پر کردار ہندوستان کے میڈیا پر دیکھے۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں