ہوم   >  پاکستان

وزیرقانون کا سندھ میں آرٹیکل149 کے نفاذ کا اشارہ

3 months ago

پیپلز پارٹی کام شروع کر دے تو کوئی مسئلہ نہیں

 

 

کراچی کے حالات سدھارنے کیلئے سندھ میں آرٹيکل 149 کے نفاذ کا اشارہ دے دياگیا ۔ وزيرقانون فروغ نسيم کے مطابق يہ آرٹيکل کے نفاذ کا درست وقت ہے۔ مسائل حل کرنے ہیں تو سخت اقدامات کرنے ہوں گے۔

سماء سے خصوصی ٹیلیفونک گفتگو میں وفاقی وزير قانون فروغ نسيم کا کہنا تھا کہ آرٹيکل 149 کانفاذ ذاتی رائے ہے اوروہ اس حوالے سے کراچی کميٹی ميں تجويزرکھيں گے ۔

انہوں نے کہا سندھ ميں حالات ايسے ہيں کہ آرٹيکل 149کانفاذ کيا جا سکتا ہے، لیکن کمیٹی اس آرٹیکل کے نفاذ کی تجویز سے اتفاق کرتی ہے یا نہیں اور کمیٹی کی سفارش وزيراعظم مانتے ہيں يانہيں يہ دوسری بات ہے۔ لوکل گورنمنٹ صرف کراچی کی نہيں سندھ بھرکی ہے۔ پیپلز پارٹی کراچی میں کام شروع کردے تو ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

فروغ نسیم کے مطابق وہ آرٹیکل 149(4) کے نفاذ کے حق میں ہیں، کراچی میں آئین کے آرٹیکل 140 اے کا نفاذ بھی ضروری ہے، دیکھنا ہوگا لوکل ایکٹ 2013 آرٹیکل 140 اے سے کتنا تضاد رکھتا ہے۔

وفاقی وزیرقانون نے کہا کہ آرٹیکل 149(4) گورنر راج کی بات نہیں کرتا، یہ وفاق کو خصوصی اختیارات دیتا ہے۔ متعلق شکایت کرنا پی پی کا حق ہے۔ وقت آنے پر سب سامنے آ جائے گا۔

اے آر وائی ٹی وی پر بات کرتے ہوئے فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ سندھ کوئی مداخلت نہیں کررہے، آئین میں رہتے ہوئے کام کر رہے ہیں۔ وفاقی حکومت سندھ میں گورنر راج نہیں لگا رہی۔

انہوں نے کہا کہ دیکھنا ہوگا این ایف سی کے تحت حکومت سندھ کو کتنی رقم ملی۔ سعید غنی اپنے بھائی ہیں اور انہیں مجھ سے زیادہ سیاست اور وکالت آتی ہے، وہ کہہ رہے ہیں ڈائریکشن دی جا سکتی ہے مداخلت نہیں، لیکن ڈائریکشن تب دی جاتی ہے جب مداخلت کرنا جائز ہو۔

وزیر قانون نے مزید کہا کہ ابھی عوام کہہ رہی ہے کراچی کا کچرا نہیں اٹھایا رہا۔ جب گورنر راج نافذ کریں گے تو پھر کہیں گے کیوں لگایا؟ پیپلز پارٹی والوں نے 11 سال میں کیا کیا، این ایف سی سے کتنے پیسے ملے، سیلز ٹیکس کتنا صوبے سے ملتا ہے، یہ سب دیکھنا ہے۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں