ہوم   >  پاکستان

سانحہ بلدیہ: گواہان کابیان ویڈیولنک کے ذریعے ریکارڈکرنیکاحکم چیلنج

5 days ago

بھائیلہ برادران کوویڈیولنک پربیان ریکارڈ کرانے کی اجازت دی گئی




سانحہ بلدیہ کو 7 برس گزر گئے لیکن 259 افراد کو زندہ جلانے والے قاتل انجام تک نہ پہنچ سکے۔ مقدمہ انجام کے قریب پہنچا مگر فیکٹری مالکان کی ويڈيو لنک کے ذريعے اہم ترین گواہی کے حکم کو سندھ ہائی کورٹ ميں چيلنج کرديا گيا۔


‎ گیارہ ستمبر 2012 کو کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں علی انٹرپرائزز فیکٹری میں 259 افراد کو زندہ جلادیا گیا تھا۔ پولیس نے پہلے تو سانحے کو حادثہ قرار دے کر فائل بند کرنے کی کوشش کی لیکن  جے آئی ٹی نے رپورٹ میں ہولناک انکشافات کر دیے۔


رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ’’بھتہ نہ دینے پر فیکٹری کو آگ لگائی گئی اورایم کیوایم کی قیادت نے فیکٹری کو جلانے کا حکم دیا گیا تھا‘‘۔ اس رپورٹ کی روشنی میں مقدمے میں دہشتگردی کی دفعات شامل کی گئیں۔


رینجرز نے ایم کیوایم کے کارکن عبدالرحمان بھولا اور زبیر چریا سمیت دیگر ملزمان گرفتار کیے۔ ایم کیو ایم رہنماء رؤف صدیقی سمیت 9 ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی۔ اس کیس کے اہم ملزم حماد صدیقی کو اشتہاری قرار دیا گیا لیکن عدالتی حکم کے باوجود ملزم کو پاکستان لانے کیلئے کسی قسم کے اقدامات نہیں کیے گئے۔


کیس میں 401 گواہوں میں شہداء کے لواحقین سمیت 396 گواہوں نے بیانات ریکارڈ کرائے، دبئی سے فیکٹری مالکان بھائلہ برادران سمیت 5 گواہوں کے بیانات وڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کرانے کی اجازت دی گئی مگر گرفتارملزم عبدالرحمان بھولا نے وڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرانے کی اے ٹی سی کی اجازت کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا۔


انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں مقدمے کی سماعت 17 ستمبر کو ہوگی۔ پراسیکیوشن کے مطابق فیکٹری مالکان کا بیان مقدمہ میں اہم موڑ ثابت ہوگا۔

 
TOPICS:

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں