Thursday, July 9, 2020  | 17 ZUL-QAADAH, 1441
ہوم   > پاکستان

قونصلر رسائی،کلبھوشن کی بھارتی حکام سے ملاقات

SAMAA | - Posted: Sep 2, 2019 | Last Updated: 10 months ago
Posted: Sep 2, 2019 | Last Updated: 10 months ago

مقبوضہ کشمیر کی حالیہ سنگین صورتحال کے باوجود پاکستان کا لائق تحسین اقدام اٹھاتے ہوئے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کی پاسداری کرتے ہوئے بھارتی جاسوس دہشت گرد تک قونصلر رسائی دے دی، بھارتی ہائی کمیشن کے حکام نے گرفتار ”را ایجنٹ” کے ساتھ دو گھنٹے طویل ملاقات کی۔

پیر کے روز پاکستان میں گرفتار بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی دفتر خارجہ کی عمارت میں بھارتی ڈپٹی کمشنر کی ملاقات کرائی گئی، بھارتی جاسوس کو قونصلر رسائی دینے کا فیصلہ پاکستان ویانا کنونشن اور عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے مطابق کیا گیا۔ ملاقات کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔

ملاقات کیلئے بھارتی ہائی کمشنر دفتر خارجہ پہنچے،جہاں سے اُنہیں خفیہ مقام پر قائم سب جیل میں کلبھوشن کے پاس لے جایا گیا، دو گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی بیٹھک میں پاکستانی دفتر خارجہ کی ڈائریکٹر انڈیا فریحہ بگٹی بھی موجود رہیں، ملاقات کے بعد گورؤ آہلووالیہ کو واپس دفتر خارجہ پہنچایا گیا جہاں سے وہ انڈین ہائی کمیشن چلے گئے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ تین سالوں میں پہلی بار کلبھوشن کو قونصلر رسائی دی گئی ہے۔ واضح رہے کہ اتوار کے روز ترجمان دفترِ خارجہ نے اپنے بیان میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی دینے کا اعلان کیا تھا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارتی جاسوس کو پاکستانی قوانین کے تحت قونصلر رسائی دے رہے ہیں۔

مزید جانیے : پاکستان کا بھارتی کمانڈر کلبھوشن کو قونصلر رسائی دینے کا اعلان

قبل ازیں ملتان میں میڈیا سے گفت گو میں وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی دیئے جانے کی تصدیق کی۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان پرامن ملک ہے، خطے کا امن خراب نہیں کرنا چاہتے، جنگ آخری آپشن ہوتا ہے، کوئی باشعور ملک یا طبقہ جنگ سے گفت گو کا آغاز نہیں کرتا۔

کلبھوشن یادیو کی اہلخانہ سے پہلی ملاقات

کلبھوشن یادیو کی اہل خانہ سے پہلی ملاقات 25 دسمبر سال 2017 میں ہوئی تھی۔ دفتر خارجہ کی عمارت میں ہونے والی ملاقات میں جاسوس کلبھوشن نے والدہ اور اہلیہ سے ملاقات کی۔ دونوں خواتین بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کے ہمراہ تھیں۔ کلبھوشن کی والدہ آوانتی سودھی یادیو اور اہلیہ چیتنکاوی یادیو کو اسلام آباد ایئرپورٹ سے پہلے سیکیورٹی حصار میں ہائی کمیشن پہنچایا گیا، جہاں سے انہیں دفتر خارجہ لے جایا گیا۔

کلبھوشن کب گرفتار ہوا؟

بھارتی نیوی کے حاضر افسر کلبھوشن یادیو کو 3 مارچ سال 2016ء کو بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا، جسے پاکستان ملٹری کورٹ کی طرف سے سزائے موت دی گئی۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 10 اپریل 2017ء کو کلبھوشن یادیو کی سزائے موت کی توثیق کی۔ کلبھوشن نے رحم کی اپیل کی تھی جب کہ مئی 2017ء کو بھارت معاملے کو عالمی عدالت انصاف میں لے گیا اور کلبھوشن کی پھانسی کی سزا پر عملدرآمد رکوانے کے لیے درخواست دائر کر دی تھی۔

بھارت نے انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس سے کمانڈر جاسوس کلبھوشن کی بریت، رہائی اور واپسی کا مطالبہ کیا، جب کہ پاکستان کے وکیل بیرسٹر خاور قریشی نے تحریری اور زبانی دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ آئی سی جے کو بھارت کو کوئی ریلیف نہیں دینا چاہیے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube