ہوم   >  پاکستان

سندھ ہائیکورٹ، مصطفیٰ کمال کی معطلی کیخلاف درخواست مسترد

2 months ago

سندھ ہائيکورٹ نے مصطفیٰ کمال کو بطورپروجيکٹ ڈائريکٹر گاربيج بحال کرنے کی درخواست مسترد کردی۔ عدالت نے ریمارکس دیے جب تقرری ضابطہ کے تحت نہیں ہوئی تو معطلی کيخلاف درخواست کیسے دی جا سکتی ہے۔

سابق سٹی ناظم اور پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال کو میئر کراچی نے پروجیکٹ ڈائریکٹر گاربیج تعینات کیا تھا لیکن اگلے دن ہی ان کی معطلی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔

سماجی کارکن اور وکیل اقبال کاظمی نے گزشتہ روز مصطفیٰ کمال کی بحالی کیلئے سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس میں میئر کراچی وسیم اختر، مصطفیٰ کمال اور سیکرٹری بلدیات کو فریق بنایا گیا۔

آج سندھ ہائیکورٹ میں ہونے والی سماعت کے دوران درخواست گزاراقبال کاظمی نے اپنے دلائل میں کہا کہ مصطفیٰ کمال کوچند گھنٹےبعد ہی معطل کرديا گيا۔ اگر ان کی تقرری غلط تھی تو مطلب ہے میئر نااہل تھا۔ میئر کراچی کو اگرمصطفیٰ کمال سے شکایت تھی تو ضابطے کے تحت شوکاز نوٹس جاری کیا جاتا۔ اس طرح سے معطلی کا نوٹیفکیشن غیر قانونی ہے۔

جسٹس شفیع صدیقی نے ریمارکس دیے کہ پہلےیہ بتائیں تقرری کرنے کے کیا قوانین تھے؟ آپ کیا مذاق کرنے یہاں آئے ہیں۔ جب تقرری ضابطے کے تحت نہیں ہوئی تو معطلی کيخلاف کیسے آ سکتے ہیں۔ وہ قانون بتادیں جس کےتحت اس طرح تعیناتی کی جاتی ہو۔

عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے درخواست مسترد کردی۔

یاد رہے کہ میئر کراچی وسیم اختر نے 26 اگست کو سابق سٹی ناظم کراچی مصطفیٰ کمال کو شہر کی صفائی کا ٹاسک دیتے ہوئے پروجیکٹ ڈائریکٹر گاربیج تعینات کیا تھا۔ میئر نے تمام دستیاب وسائل فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئےمصطفیٰ کمال کے چیلنج پر انہیں کہا تھا کہ 90 روزمیں کراچی کا کچرا اٹھا کر دکھائیں۔

اگلے ہی روز وسیم اختر نے کہا کہ مصطفیٰ کمال کام کے بجائے سیاست چمکا رہے اور اپنے باسز کو گالیاں دے رہے ہیں،توقع تھی کہ وہ نیک نیتی کے ساتھ کام کرنے آئے ہیں لیکن میری مخلصی کا غلط فائدہ اٹھایا گیا،مصطفیٰ کمال نے ریلی نکالی اور مغلظات بکنا شروع کردیں جبکہ ان کو نوٹیفکیشن کے بعد دفتر آ کر ہم سے اپنا پلان شیئر کرنا چاہیے تھا۔

مصطفیٰ کمال نے پاکستان ہاؤس ميں پريس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ صبح ہونے کا انتظار نہيں کروں گا،رات 2 بجے ہی میٹنگ بلاؤں گا، کچرے والی جگہ پر بريفنگ لوں گا۔ رات کے دو بجے ميونسپل سروسز اور اسٹاف حاضرہوجائے، کام نہ کرنے والے کی گنجائش ميرے پاس نہيں ہے۔ میئراب خود کو ہوش میں رکھیں۔ وہ میرے باس ہے، میری کال اٹینڈ کریں، میں رات دو بجے میں میئرکو رپورٹ دوں گا۔ افسران کی بریفنگ کے بعد دن رات کام ہوگا۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں