ہوم   >  پاکستان

مریم نواز کے پارٹی عہدے سے متعلق فیصلہ موخر

3 months ago

الیکشن کمیشن نے مریم نواز کی بطور نائب صدر پارٹی عہدے پر برقرار رہنے یا ہٹائے جانے سے متعلق فیصلہ 3 ستمبر تک موخر کردیا ہے۔

الیکشن کمیشن کو مریم نوازکے پارٹی عہدے سے متعلق فیصلہ آج سنانا تھا تاہم فیصلہ مؤخر کرديا گیا ہے۔الیکشن کمیشن نے مزید معاونت کی ہدایت کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے فیصلے اور آرٹیکل باسٹھ اور تريسٹھ کے اطلاق پر مزید معاونت مانگ لی ہے۔

پی ٹی آئی نے مریم نواز کو عہدہ دینے کا اقدام چینلج کیا تھا۔ الیکشن کمیشن نے یکم اگست کو مریم نوازکیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

پس منظر

واضح رہے کہ 9 مئی 2019 کو پی ٹی آئی کے 4 اراکین  قومی اسمبلی کی جانب سے الیکشن کمیشن میں دائر کی جانے والی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ مریم نواز احتساب عدالت سے سزا یافتہ ہیں، جس نے انہیں عوامی عہدے کیلئے نااہل قرار دیا۔ پارٹی عہدہ نجی حیثیت کا حامل نہیں ہوتا کیونکہ سیاسی جماعتوں کا پورے سیاسی نظام پر اثررسوخ ہوتا ہے۔

درخواست کے متن کے مطابق پارٹی صدر کی عدم دستیابی پر مریم قائم قام صدر کے اختیار استعمال کریں گی،کیسے ممکن ہے اراکین اسمبلی آرٹیکل 62 ، 63 پر پورا اتریں اور انہیں کنٹرول کرنے والے نہیں۔ سپریم کورٹ نوازشریف کو بھی پارٹی عہدے کیلئے نااہل قرار دے چکی ہے، مریم نواز کوعہدہ رکھنے کی اجازت دینا نوازشریف کو اجازت دینے کے مترادف ہے، لہذاٰالیکشن کمیشن مریم نواز کی بطور پارٹی نائب صدر تعیناتی کالعدم قرار دے۔

ن لیگ کا اعلامیہ

اس سے قبل 3مئی کو صدر ن لیگ شہباز شریف نے لندن سے اعلامیہ جاری کیا تھا جس کے مطابق نائب صدور کی 16 رکنی فہرست میں مریم نواز ، حمزہ شہباز اورخواجہ سعد رفیق کا نام بھی شامل تھا جبکہ اسحاق ڈارانٹرنیشنل افیئرز کے صدر اور نزہت صادق خواتین ونگ کی صدر مقرر کی گئیں۔

اعلامیے کے مطابق احسن اقبال مرکزی سیکرٹری جنرل ، شاہد خاقان عباسی سینیئر نائب صدر،مریم اورنگزیب سیکرٹری اطلاعات اور پرویز ملک سیکرٹری فنانس کی ذمہ داریاں نبھائیں گے۔

 
TOPICS:

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں