ہوم   >  پاکستان

نیب کا مرید عباس قتل اور ٹائر اسکینڈل کی تحقیقات کا فیصلہ

4 weeks ago

چیئرمین نیب نے نجی ٹی وی کے اینکر پرسن مرید عباس کے قتل اور ٹائر اسکینڈل کیس کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔ جسٹس (ر) جاوید اقبال نے ڈی جی نیب کراچی کو ملزم عاطف زمان کیخلاف کارروائی کی بھی ہدایت کردی۔

چيئرمين نيب جسٹس (ر) جاويد اقبال نے کراچی ميں اينکر پرسن مريد عباس کے قتل اور ٹائر اسکينڈل کيس کی تحقيقات کا حکم دیتے ہوئے ڈی جی نيب کراچی کو ملزم عاطف زمان کیخلاف کارروائی کی ہدایت کردی۔

کراچی کے علاقے ڈیفنس میں ملزم عاطف زمان نے 9 جولائی 2019ء کو نجی ٹی وی کے اینکر مرید عباس کو اپنے آفس میں بلا کر فائرنگ کرکے جبکہ ایک اور انویسٹر خضر حیات باہر گاڑی پر فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا، جبکہ خود کو گولی مار کر خودکشی کی بھی کوشش کی تھی تاہم پولیس نے اسے زخمی حالت میں گرفتار کرکے اسپتال منتقل کردیا تھا۔

تفصیلات جانیں : مرید عباس کے مبینہ قاتل سے متعلق تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ کے انکشافات

 نیب اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اینکر پرسن اور دیگر افراد سے لوٹے گئے اربوں روپے کی تحقيقات ہوگی، قومی احتساب بیورو نے ٹائرز کے جعلی کاروبار پر اربوں روپے لوٹنے کی شکایات پر تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے۔

نیب کے مطابق معاملے کی تحقیقات کا مقصد متاثرین کو لوٹی گئی رقم واپس دلانا ہے۔

واقعے کے بعد جناح اسپتال ایمرجنسی کی انچارج ڈاکٹر سیمی جمالی نے بتایا کہ ٹی وی اینکر مرید عباس کو پیٹ اور سینے پر دو گولیاں لگیں، سینے پر لگنے والی گولی جان لیوا ثابت ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں : سرمایہ کاری فراڈ اور دوہرے قتل کا ملزم عاطف زمان عدالت میں پیش

پولیس تحقیقات میں پتہ چلا کہ میڈیا اور شوبز سے تعلق رکھنے والے 40 سے زائد افراد نے عاطف زمان کے ٹائروں کے کاروبار میں ایک ارب روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کررکھی تھی، جنہیں وہ کئی ماہ تک منافع بھی دیتا رہا تھا۔

پولیس نے گزشتہ ہفتے مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کرلیں، چالان کے مطابق واقعے کے 4 عینی شاہد اور 35 گواہوں موجود ہیں، عاطف زمان نے مرید عباس پر 4 جبکہ خضر حیات پر 3 گولیاں چلائیں جبکہ ایک اور شخص عمر ریحان پر بھی گولی چلائی تاہم وہ خوش قسمتی سے بچ نکلا۔

مزید جانیے : مالیاتی اسکینڈل کے مرکزی ملزم عاطف زمان کا ڈرائیور دم توڑ گیا

عاطف زمان کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ خضر دوسرے انويسٹرز کو فون کرکے ميرے خلاف اکساتا تھا، جس کی وجہ سے مجھ پر رقم واپس کرنے کیلئے دباؤ بڑھ جاتا تھا، اس کے بعد خضر اور مريد کو مارنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔

دوہرے قتل کے ملزم نے پولیس کو بیان دیا کہ 2014ء ميں 5 لاکھ روپے سے کاروبار کا آغاز کيا، 10 لاکھ روپے دينے پر 2، 2 لاکھ روپے منافع ديتا تھا، انويسٹرز کی باقی رقم ری انويسٹ کردیتا تھا، لوگوں کو 20 اور 25 فيصد کا منافع دیتا تھا۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں