ہوم   >  پاکستان

پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے سے متعلق فیصلہ اکتوبر میں ہوگا

1 month ago

ایشیا پیسفک گروپ میں پاکستانی وفد نے منی لانڈرنگ اور دہشتگردوں کی مالی معاونت روکنے کیلئے اقدامات پر پیشرفت سے متعلق تیسری ایویلوایشن رپورٹ پیش کردی۔ ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ سے نکالنے یا بلیک لسٹ میں شامل کرنے سے متعلق فیصلہ اکتوبر میں کرے گا۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ایشیا پیسفک گروپ کا 22 واں اجلاس آسٹریلیا کے شہر کینبرا میں منعقد ہوا، اجلاس میں گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کی سربراہی میں پاکستانی وفد نے تیسری ایویلوایشن رپورٹ پیش کی۔

ایشیا پیسفک گروپ پاکستان کی رپورٹ کا جائزہ لے کر اگلے ماہ ایف اے ٹی ایف کو اپنی رپورٹ پیش کرے گا، جبکہ ایشیا پیسفک گروپ رپورٹ پر ایف اے ٹی ایف اکتوبر میں فیصلہ کرے گا کہ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنا ہے وہیں رکھنا ہے یہ بلیک لسٹ میں شامل کرے گا ۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا کہ پاکستان نے رپورٹ میں فروری 2018 سے اکتوبر 2018 کے دوران کیے گئے اقدامات کا ذکر کیا گیا۔

اجلاس کے دوران پاکستانی وفد نے منی لانڈرنگ اور انسداد دہشتگردی کے خلاف اقدامات میں عالمی برادری کے تعاون کا خیر مقدم کیا۔ اجلاس میں ایف اے ٹی ایف فریم ورک اور ایکشن پلان پر مؤثر عمل درآمد کیلئے نئی پیش رفت کا بھی تذکرہ کیا گیا۔

پاکستانی عہدیداروں نے اہم وفود کے ساتھ متعدد دو طرفہ ملاقاتیں بھی کیں، ملاقات میں انہوں نے ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان کو عملی جامہ پہنانے میں پاکستان کی حالیہ پیشرفت پر شرکا کو آگاہ کیا۔

ملاقات کے دوران فنانسشل مانیٹرنگ یونٹ نے چین کے ایک ادارے کے ساتھ اینٹی منی لانڈرنگ مانیٹرنگ سے متعلق معلومات کے تبادلے کی ایم او یو پر دستخط بھی کئے۔

اس سے قبل پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے 27 نکات پر مشتمل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے تعمیلی رپورٹ اے پی جی میں جمع کروائی تھی۔

خیال رہے کہ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ دہشتگردوں کی مالی معاونت روکنے کیلئے تسلی بخش اقدامات کرے بصورت دیگر اسے بلیک لسٹ ممالک کی فہرست میں شامل کیا جاسکتا ہے۔

 

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
30 mins ago
11 hours ago