ہوم   >  پاکستان

آمدن سے زائد اثاثے،حمزہ شہباز کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع

4 weeks ago

آمدن سے زائد اثاثوں اور رمضان شوگر ملز کيسز ميں حمزہ شہباز کے ريمانڈ ميں چودہ روز کي توسيع کر دي گئي ہے۔ رہنما ن ليگ کا کہنا ہے کہ ظلم مٹنے کا وقت آ گيا، ظلم کرنے والوں کی حالت پر ترس آ رہا ہے۔

لاہور کی احتساب عدالت میں آمدن سے زائد اثاثے اور منی لانڈرنگ کیس کی سماعت ہوئی۔ اس موقع پر قومی احتساب بیورو ( نیب ) کی جانب سے اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز کو عدالت میں پیش کیا گیا۔

ڈیوٹی جج نعیم ارشد نے کیس پر سماعت کی۔ نیب کے پراسیکیوٹر حافظ اسد اللہ اور نیب تفتیشی حامد جاوید نے حمزہ شہباز کے مزید 15 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔

سماعت کے آغاز میں نیب حکام نے عدالت کو بتایا کہ حمزہ شہباز سے ابھی مزید تحقیق کرنی ہے، 20 ملین روپے کی 2004 سے ٹیکس ریٹرن نہیں ملی، ایسے افراد نے بھی حمزہ شہباز کے اکاؤنٹ میں لاکھوں ڈالر بھجوائے جن کے پاسپورٹ بھی نہیں بنے۔ رانا ظہیر فیصل آباد میں کپڑے کی دکان پر ملازم ہے، اس کا پاسپورٹ بھی نہیں بنا لیکن اس نے لندن سے حمزہ کو ایک لاکھ ڈالر بجھوائے، آفتاب احمد اور شاہد رفیق منی لارنڈنگ کیس میں وعدہ معاف گواہ بن چکے ہیں جبکہ حمزہ شہباز کے وکیل امجد پرویز نے اس کی مخالفت کی۔

جج نے استفسار کيا کہ بیرون ملک سے آئے پیسوں کے ليے شناختی کارڈ لیا جاتا ہے، پھر منی لانڈرنگ کيسےہوئی ؟۔ نيب افسر نے بتايا کہ رانا ظہیر نے لندن سے ايک کروڑ روپے ٹی ٹی کیے، دو وعدہ معاف گواہ بھي بیان ریکارڈ کرا چکے ہیں۔ حمزہ شہباز کے وکيل نے کہا کہ اسٹيٹ بينک بیرون ملک سے آئے ڈالر ملکی کرنسی میں تبدیل کرکے دیتا ہے، نیب کے پاس الزامات کا کوئی ثبوت نہیں، حمزہ شہباز نے کہا کہ ان کا دامن صاف ہے۔

حمزہ شہباز کے وکیل امجد پرویز نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ حمزہ شہباز پہلے ہی 70 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کی تحویل میں رہے ہیں، نیب حکام کے پاس مزید جسمانی ریمانڈ کے حصول کے لئے کوئی ٹھوس وجہ نہیں لہذا حمزہ شہباز کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کی جائے۔

احتساب عدالت نے حمزہ شہباز کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 14روز کی توسیع کرتے ہوئے 4 ستمبر کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا، حمزہ شہباز سے احتساب عدالت کے باہر صحافی نے سوال کیا کہ ظلم کی رات لمبی ہی ہوتی جا رہی ہے جس پر حمزہ شہباز نے کہا ظلم کی یہ رات ختم ہو جائے گی، مجھے ظلم کرنے والوں پر ترس آتا ہے۔ حمزہ شہباز کی پیشی کے موقع پر جوڈیشل کمپلیکس کے اطراف میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

عدالت نے تين کيسوں ميں دونوں رہنماؤں کو چار ستمبر کو دوبارہ پيش ہونے کا حکم ديا۔ ليگي رہنماؤں کي پيشي کے موقع پر لوئر مال کا علاقہ نو گو ايريا بنا رہا۔ احتساب عدالت جانے کي کوشش پر ليگي کارکنوں اور پوليس ميں دھکم پيل ہوتي رہي۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں