ہوم   >  پاکستان

ميئر کراچی وسيم اختر کا نام ای سی ايل ميں ڈالا جائے،مصطفی کمال

2 months ago

پاک سرزمین پارٹی کے چئیرمین مصطفی کمال نے مطالبہ کیا ہے کہ ميئر کراچي وسيم اختر کا نام اي سي ايل ميں ڈالا جائے ورنہ وہ فرار ہوجائيں گے۔انھوں نے کہا کہ کراچي کو وفاق نہيں، کراچي والوں کے حوالے کيا جائے، صفائي مہم کے نام پر ہر روز جھوٹ سننے کو مل رہا ہے۔...




پاک سرزمین پارٹی کے چئیرمین مصطفی کمال نے مطالبہ کیا ہے کہ ميئر کراچي وسيم اختر کا نام اي سي ايل ميں ڈالا جائے ورنہ وہ فرار ہوجائيں گے۔انھوں نے کہا کہ کراچي کو وفاق نہيں، کراچي والوں کے حوالے کيا جائے، صفائي مہم کے نام پر ہر روز جھوٹ سننے کو مل رہا ہے۔


سربراہ پي ايس پي مصطفيٰ کمال نے کراچي ميں پريس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وسيم اختر نے پاکستان اور بيرون ملک جائيداديں بنالي، ميئر کراچی جھوٹ بول رہے ہيں، ان کے پاس پيسہ بھي ہے اور اختيارات بھي ہيں، وہ کام نہيں کرنا چاہتے، ان کو پکڑا جائے گا تو بہت پيسہ نکلے گا، صرف کميشن بنانے کيلئے پيسہ مانگا جارہا ہے، سندھ سرکار اور ميئر ايک دوسرے پر ذمہ داري ڈال رہے ہيں، ميئر کراچي کو فرار ہونے کا راستہ نہيں دينا چاہيے۔


سابق سٹي ناظم نے آرمي چيف جنرل قمر جاوید باجوہ سے کراچي کي صورتحال پر ايمرجنسي نافذ کرنے کي اپيل کردي۔ انھوں نے کہا کہ آرمي چيف کراچي کا دورہ کريں، شہر کا نظام ٹھيک کرائيں اور اس گھمبير صورتحال پر اپنا کردار ادا کريں۔


انھوں نے مزید کہا کہ کراچي ميں ذرا سي بارش ميں لوگ مرجاتے ہيں،لوگوں کے گھروں ميں پاني گھس جاتا ہے، اس حوالے سے ہماري کسي بات پر کوئي توجہ نہيں دي گئي، وزيراعلي سندھ اور وزيراعظم کو کہہ چکا ليکن شہر کراچي پر توجہ نہيں دی گئی۔



ميئر کراچی وسیم اختر ناکامی تسليم کريں،عوام سے معافی مانگيں،ترجمان سندھ حکومت


چئیرمین پی ایس پی نے کہا کہ 2 سال پہلے تک آلائشوں کے حوالے سے کوئي مسئلہ در پيش نہيں تھا لیکن اب پورا شہر  بيماريوں کي زد ميں ہے، بچے وبائي امراض کا شکار ہورہے ہيں، ايک ہفتے ميں کانگو کے کيسز بڑھ گئے ہیں۔



جب تک کراچی کا پيسہ کراچی پر نہيں لگتا عوام سندھ حکومت کو ٹيکس نہ ديں،وسیم اختر


مصطفی کمال نے بتایا کہ کراچي صفائي مہم ميں کچرا نکال کر پارک ميں ڈالا جارہا ہے،کچرا لينڈ فل سائٹ پر نہيں جارہا تو يہ مسئلہ ہے،نالوں سے کچرا نکال کر پارکوں ميں ڈالنا بہت آسان ہے۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں