ہوم   >  پاکستان

چوہدری شوگر ملز کيس،مریم نواز اور یوسف عباس کے جسمانی ریمانڈ میں 14 روز تک توسیع

1 month ago

نيب کو مريم نواز اور ان کے کزن سے تفتيش کے ليے مزيد 14 روز مل گئے، چوہدری شوگر ملز کيس ميں لاہور کي احتساب عدالت نے 4 ستمبر تک جسماني ريمانڈ دے ديا۔ کمرہ عدالت کے اندر اور باہر رش کے باعث مريم نواز پريشان دکھائي ديں۔ لاہور میں چوہدری شوگر ملز کے ذريعے...




نيب کو مريم نواز اور ان کے کزن سے تفتيش کے ليے مزيد 14 روز مل گئے، چوہدری شوگر ملز کيس ميں لاہور کي احتساب عدالت نے 4 ستمبر تک جسماني ريمانڈ دے ديا۔ کمرہ عدالت کے اندر اور باہر رش کے باعث مريم نواز پريشان دکھائي ديں۔


لاہور میں چوہدری شوگر ملز کے ذريعے مني لانڈرنگ کے کيس میں مريم نواز اور ان کے کزن يوسف عباس کي جسماني ريمانڈ ختم ہونے پر دوسري پيشي ہوئی۔


کمرہ عدالت ميں شور اور دھکم پيل کے باعث جج کو سماعت کچھ دير کے ليے روکنا پڑی۔ نيب پراسيکيوٹر نے ريمانڈ ميں توسيع کي درخواست کرتے ہوئے موقف اختيار کيا کہ مني لانڈرنگ کےالزامات کي مختلف زاویوں سے تفتیش جاری ہے،1990 کی دہائی کی ٹرانزیکشنز کی تحقیقات ابھي باقي ہيں۔ عدالت نے نيب کي درخواست منظور کرتے ہوئے 4 ستمبر تک جسماني ريمانڈ دے ديا۔


کمرہ عدالت سے جاتے ہوئے کيپٹن ريٹائرڈ صفدر اپنی اہليہ مریم نواز کو دھکم پيل سے بچانے کے ليے ان کے آگے چلتے رہے۔ لیگی کارکنوں کو روکنے پر کيپٹن ريٹائرڈ صفدر احاطہ عدالت ميں پوليس اہلکاروں سے الجھ پڑے۔



پس منظر


واضح رہے کہ شریف خاندان کے اراکین حسن نواز، حسین نواز اور مریم نواز چوہدری شوگر مل میں مبینہ شراکت دار کی حیثیت سے منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت تفتیش کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس کیس میں شریف خاندان پر چوہدری شوگر مل میں سال 2001 سے 2017 کے درمیان غیر ملکیوں کے نام پر اربوں روپے کی بھاری سرمایہ کاری اور انہیں لاکھوں روپے کے حصص دینے کا الزام ہے۔ اس سے پہلے قومی احتساب بیورو نے ایون فیلڈ ریفرنس میں بھی مریم نواز کو ملزم بنایا تھا۔


یہ کیس نو ماہ اور ایک سو سات سماعتوں پر محیط احتساب عدالت میں جاری رہا۔ اس مقدمے کا فیصلہ جولائی 2018 میں آیا تھا۔ اس فیصلے کے مطابق نواز شریف، مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹین ریٹائرڈ صفدر کو قید اور جرمانے کی سزا سنائی گئیں۔ سزا سنائے جانے کے بعد وطن واپسی پر مریم نواز کو ان کے والد سمیت اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا تھا جہاں انہوں نے تقریباً دو ماہ کا عرصہ گزارا تھا۔


اس سزا کے خلاف نواز شریف سمیت تمام ملزمان نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا جس نے ستمبر 2018 میں ان سزاؤں کو کالعدم قرار دے دیا تھا اور مریم نواز کو رہائی ملی۔

 
TOPICS:

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں