ہوم   >  پاکستان

سلامتی کونسل اجلاس نے مسئلہ کشمیر کو عالمی تنازع ثابت کردیا، پاکستان

1 month ago

کشميريوں کی قربانياں اور پاکستان کی سفارتی کوششيں رنگ لے آئیں، 50 سال بعد مسئلہ کشمير دوبارہ سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر آگیا، اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے اجلاس ميں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر غور کيا گيا، کونسل نے بھارت کے غيرآئينی اقدامات پر تشويش کا اظہار کردیا۔ شاہ محمود قریشی کہتے ہیں کہ سلامتی کونسل اجلاس نے مسئلہ کشمیر کو عالمی تنازع ثابت کردیا، بھارت ہميشہ مسئلہ کشمير کو اپنا اندرونی معاملہ قرار ديتا رہا، بھارتی مؤقف کو بری طرح شکست ہوئی، آج دنيا نے تسليم کرليا مسئلہ کشمير بھارت کا اندرونی معاملہ نہيں۔ چینی سفیر کا کہنا ہے کہ بھارت کے یکطرفہ اقدامات ہماری خود مختاری کیخلاف ہے، اس سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ ملیحہ لودھی کہتی ہیں کہ آج بھارت کا مسئلہ کشمير کو اندرونی معاملہ قرار دينے کے مؤقف کی شکست ہوئی، سلامتی کونسل کے تمام 15 اراکین نے اجلاس بلانے کے مؤقف کی حمایت کی۔

سفارتی محاذ پر پاکستان کو بڑی کامیابی مل گئی، مقبوضہ کشمیر کو اندرونی معاملہ قرار دینے کا بھارتی مؤقف دنيا نے مسترد کرديا، کشمیریوں کی جدوجہد اور پاکستان کی کوششوں سے مسئلہ کشمير 50 سال بعد سلامتی کونسل کے ايجنڈے پر آگيا۔

سیکیورٹی کونسل کے اجلاس ميں مقبوضہ کشمير کی گمبھیر صورتحال اور بھارت کے غير آئينی اقدامات کا جائزہ ليا گيا، بند کمرہ اجلاس ميں سلامتی کونسل کے 5 مستقل اور 10 غیر مستقل ارکان نے شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں : وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے سلامتی کونسل اجلاس کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی درخواست پر آج سيکيورٹی کونسل کا اجلاس ہوا، بھارت نے اجلاس رکوانے کيلئے رکاوٹيں کھڑی کرنا چاہیں، پوری قوم کو مبارکباد پيش کرنا چاہتا ہوں، آج تاریخی دن ہے، بھارت نے ہميشہ مسئلہ کشمير کو دنيا کی نظروں سے اوجھل رکھا، 5 دہائيوں بعد پہلی مرتبہ کشمير کا مسئلہ سلامتی کونسل ميں زيربحث آيا، پاکستان سلامتی کونسل اراکين کا بھی مشکور ہے۔

مزید جانیے : وزیراعظم عمران خان کل قوم سے خطاب کریں گے

وہ کہتے ہیں کہ سلامتی کونسل اراکين نے مسئلہ کشمير پر اپنی رائے کا اظہار کيا، مقبوضہ وادی ميں 12 دن سے کرفيو لگا ہوا ہے، انٹرنيٹ اور موبائل سروس مکمل طور پر منقطع ہے، سول سوسائٹی کے لوگوں نے بھی وہاں کی صورتحال اپنی آنکھوں سے دیکھی۔

ویڈیو دیکھیں : مقبوضہ کشمير ميں کرفيو ہٹنے تک بھارت سے بات نہيں ہوگی، شاہ محمود قریشی

وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت ہميشہ مسئلہ کشمير کو اپنا اندرونی معاملہ قرار ديتا رہا، آج دنيا نے تسليم کرليا مسئلہ کشمير بھارت کا اندرونی معاملہ نہيں، بھارتی مؤقف کو آج بری طرح شکست ہوئی ہے، سلامتی کونسل اجلاس نے ثابت کردیا مسئلہ کشمیر عالمی تنازع ہے، مسئلہ کشمير کا حل سلامتی کونسل کی قرار دادوں سے ہی نکل سکتا ہے۔

تفصیلات جانیں : بھارتی ایڈیٹرز کا کشمیر کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار

شاہ محمود قریشی کے مطابق سلامتی کونسل کے اراکین نے کشمیر کی صورتحال پر اظہار تشویش کیا، آج نہیں تو کل ہماری آواز مقبوضہ کشمیر تک پہنچے گی، 14 اگست کو پاکستان نے کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا، تاریخی پیشرفت کو مدنظر رکھتے ہوئے کل اہم اجلاس طلب کیا ہے۔

انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی میڈیا کا شکریہ ادا کیا، ان کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے مظالم آج دنیا کے سامنے آچکے ہیں، بھارت کو چیلنج کرتا ہوں کرفیو ہٹاؤ اور ردعمل دیکھ لو، کشمیریوں کی سفارتی، اخلاقی، سیاسی حمایت جاری رکھیں گے، عالمی سطح پر آج تسلیم کیا گیا مسئلہ کشمیر کا حل نکلنا چاہئے، پاکستان کی ترجیح مسئلہ کشمیر کا پُرامن حل ہے۔

مزید جانیے : میڈیا مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر جھوٹ بول رہا ہے، بھارتی سماجی کارکن

وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ بھارت اپنے عوام کو طفل تسلی دیتا رہے، ایٹمی آپشن سے متعلق بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ کا بیان غیر ذمہ دارانہ اور احمقانہ ہے، ثابت ہوگیا کہ خطے میں بد امنی کے ہمارے خدشات درست ہیں، پاکستان کم از کم ڈیٹرنس کے اصول پر کاربند ہے، پہلے ایٹمی حملہ نہ کرنے کے معاہدے کا مقصد خطے کو تباہی سے بچانا ہے، کوئی بٹن دبانے سے مسئلہ کشمیر حل ہونے کی توقع نہیں، ایسا ہوسکتا تو 72 سال یونہی نہ گزر جاتے۔

شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ آج کے سلامتی کونسل کے اجلاس کے ملتوی ہونے کے خدشات تھے، اجلاس کا انعقاد ہی کشمیر کے عالمی مسئلہ ہونے کا ثبوت ہے، مسلم اُمّہ کا کرفیو اٹھانے کا مطالبہ کشمیر سے یکجہتی کا اظہار ہے، مسئلہ کشمیر کو عالمی توجہ ملنا بڑی کامیابی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : بھارتی وزیردفاع کی ایٹمی پالیسی میں تبدیلی کی دھمکی

 اقوام متحدہ ميں چين کے مستقل مندوب نے اجلاس کے بعد ميڈيا کو بتايا کہ رکن ممالک نے کشمير کی صورتحال پر تشويش ظاہر کی ہے، کشمير عالمی سطح پر متنازع معاملہ ہے، بھارت نے يکطرفہ طور پر کشمير کی حيثيت تبديل کی، بھارتی اقدام سے خطے ميں کشيدگی بڑھ گئی، چین کی خود مختاری بھی متاثر ہوئی، بھارتی اقدام قابل قبول نہیں۔

مزید جانیے : مودی کے گجرات میں ہٹلر ہیرو ہے، عارف علوی نے ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ شیئر کردی

انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمير پاکستان اور بھارت کے درميان تصفيہ طلب مسئلہ ہے، کشمیر کا ابھی تک فیصلہ نہیں ہوا ہے اور یہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ مسئلہ ہے، بھارت کی جانب سے آئينی تبديلی نے کشمير کی خصوصی حیثیت بدل دی، خطے ميں کشيدگی ختم کرنے کیلئے اقدامات کئے جائيں، مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔

یہ بھی سنیں : اس وقت عالمی سطح پر کشمیر سے بڑا کوئی مسئلہ نہیں،مشعال ملک

اقوام متحدہ میں پاکستان کی سفیر ملیحہ لودھی نے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں کہا کہ پاکستان سلامتی کونسل کے اجلاس کو خوش آمديد کہتا ہے، آج کا اجلاس وزير خارجہ شاہ محمود قریشی کی درخواست پر طلب کيا گیا، چین نے اجلاس طلب کرنے ميں ساتھ ديا، جس پر ان کے مشکور ہیں، آج سلامتی کونسل ميں مظلوم کشميريوں کی آواز سنی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ سلامتی کونسل کے تمام 15 اراکين نے اجلاس طلب کرنے کی حمايت کی، پاکستان مسئلہ کشمير کے پُرامن حل کیلئے تيار ہے، آج بھارت کا مسئلہ کشمير کو اندرونی معاملہ قرار دينے کے مؤقف کی شکست ہوئی، يہ کشميريوں کے حقوق کا پہلا قدم ضرور ہے ليکن آخری نہيں۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں