Saturday, October 23, 2021  | 16 Rabiulawal, 1443

ترکی اور ملائیشیا کی پارلیمان کے اسپیکرز کی کشمیر پر پاکستان کے مؤقف کی حمایت

SAMAA | - Posted: Aug 9, 2019 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: Aug 9, 2019 | Last Updated: 2 years ago

ترکی کی گرینڈ نیشنل اسمبلی کے اسپیکر مصطفیٰ سینٹوپ نے پاکستان کو مسئلہ کشمیر پر ایک قرار داد منظور کرانے کی یقین دہانی کرادی۔

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اپنے ترک ہم منصب کو ٹیلی فون کرکے مقبوضہ کشمیر و لائن آف کنٹرول کی صورتحال اور بھارت کے اشتعال انگیز اقدامات سے متعلق آگاہ کیا۔

ترک پارلیمان کے اسپیکر مصطفیٰ سینٹوپ نے اسد قیصر کو یقین دہانی کرائی کہ وہ گرینڈ نیشنل اسمبلی میں مسئلہ کشمیر پر ایک قرار داد منظور کرانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

اسد قیصر کا کہنا تھا کہ پوری پاکستانی قوم کشمیر کے بارے میں بھارتی اقدام کی مذمت کرنے پر ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کی شکر گزار ہے، بھارت کا اصل چہرہ اب پوری طرح بے نقاب ہوگیا ہے۔

انہوں نے ترک اسپیکر کو کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرکے اسے بھارت کی نوآبادی بنانے کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ نسل کشی کی بدترین مثال ہے اور اس کا مقصد کشمیری آبادی کو مذہبی طور پر نقصان پہنچانا ہے۔

قومی اسمبلی کے اسپیکر کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان بھارت کی اس بددیانتی کو تمام بین الاقوامی پارلیمانی فورموں میں اجاگر کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے ترکی کے ہم منصب سے مسئلہ کشمیر کو ترکی میں ہونیوالی آئندہ 5 ملکی اسپیکرز کانفرنس میں شامل کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

ترکی کی گرینڈ نیشنل اسمبلی کے اسپیکر مصطفیٰ سینٹوپ نے کشمیر میں مظالم پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ وہ بولے کہ پارلیمنٹ اس معاملے کا بغور جائزہ لے رہی ہے، ترکی اپنے پاکستانی اور کشمیری بہنوں اور بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے۔

ترک اسپیکر نے کہا کہ بھارت نے کشمیری عوام کو یرغمال بنا رکھا ہے اور بھارتی اقدامات کا کوئی قانونی اور اخلاقی جواز نہیں، ترکی پاکستان کے اصولی مؤقف کی مکمل حمایت کرتا ہے۔

قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر نے ملائیشیا کے ہم منصب محمد عارف یوسف کو بھی ٹیلی فون کیا اور انہیں بھارتی حکومت کی طرف سے آرٹیکل 35 اے اور 370 ختم کرنے کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر میں بدترین صورتحال کے بارے میں آگاہ کیا۔

اسد قیصر نے کہا کہ یہ ظالمانہ بھارتی اقدام کشمیر کے محصور عوام پر نیا حملہ ہے، یہ آرٹیکل بھارت کے بانیوں نے مسئلہ کشمیر کے پُرامن حل کیلئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ساتھ عہد کے تحت آئین میں شامل کئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام اس ظالمانہ اقدام کیخلاف احتجاج کر رہے ہیں، کشمیر میں کرفیو اور قانون ساز اسمبلی کو معطل کرکے گورنر راج نافذ کردیا گیا ہے۔

اسد قیصر نے مزید کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں تمام مواصلاتی رابطے بند ہیں اور انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔

ملائیشیا کے اسپیکر نے کہا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے آگاہ ہیں اور ان کی حکومت محتاط طور پر صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے، کشمیر ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے اور ضروری ہے کہ اسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کیا جائے۔

انہوں نے کشمیری عوام کی ان کے حق خودارادیت کے حصول کی جدوجہد میں مکمل حمایت کا یقین دلایا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube