ہوم   >  پاکستان

مریم نواز اور یوسف عباس 12 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے

3 months ago

احتساب عدالت لاہور نے چوہدری شوگر مل کیس میں ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز اور ان کے کزن یوسف عباس کو 12 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔ لاہور کی احتساب عدالت میں چوہدری شوگر مل کیس کی سماعت ہوئی۔ اس موقع پر قومی احتساب بیورو ( نیب) کی جانب سے گرفتار مریم نواز...

احتساب عدالت لاہور نے چوہدری شوگر مل کیس میں ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز اور ان کے کزن یوسف عباس کو 12 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔

لاہور کی احتساب عدالت میں چوہدری شوگر مل کیس کی سماعت ہوئی۔ اس موقع پر قومی احتساب بیورو ( نیب) کی جانب سے گرفتار مریم نواز اور یوسف عباس کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے۔ عدالت کے باہر پولیس کا خصوصی سیکیورٹی حصار رہا، تاہم ن لیگی رہنما عظمی بخاری پولیس کا حصار توڑ کر عدالت جانے میں کامیاب ہوگئیں۔

عدالت میں کیس کی کارروائی کا اغاز ہوا تو نیب کی جانب سے مریم نواز اور یوسف عباس کے پندرہ روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔ جس کے بعد مریم نواز روسٹرم پر ائیں تو ان کے وکیل نے دلائل کا اغاز کیا۔ اپنے دلائل میں امجد پرویز کا کہنا تھا کہ گرفتاري کے لیے ملزم کو گراؤنڈز بتانا ضروری ہے، جسے نیب گرفتاري کي وجوہات کہہ رہا ہے، وہ قانون کے مطابق نہیں، گراؤنڈز کا مطلب تمام مواد فراہم کرنا ہوتا ہے۔

سماعت کے دوران نیب کے وکیل کا کہنا تھا کہ یوسف عباس کا اکاؤنٹ منی لانڈرنگ کے لیے استعمال ہوا، جس پر جج نے استفسار کرتے ہوئے پوچھا کہ پاناما والے کیس میں کیا ہوا تھا؟ نیب کے وکیل کا کہنا تھا کہ اس میں تین ریفرنس داخل کرنے کا کہا، مگر چوہدری شوگر مل اس میں شامل نہيں تھا، مریم سوالوں کے تسلی بخش جواب نہیں دے سکیں، مریم نے جو شيئرز 2008 میں خریدے وہ نواز شریف کو 2015 ميں منتقل کر دیئے گئے، ان سوالوں کے جواب مريم نواز نے نہیں دیئے۔

مریم کے کیس کی سماعت کے دوران حمزہ شہباز بھی کمرہ عدالت آگئے۔ اس موقع پر حمزہ اور مریم نواز نے ايک دوسرے کي خیریت دریافت کی۔ نیب کی جانب سے عدالت سے مریم نواز اور یوسف عباس سے مزید تفتیش کیلئے پندرہ روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔ عدالت نے مریم نواز اور یوسف عباس کا 21 اگست تک جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

لاہور عدالت میں کیس کی سماعت کے موقع پر جوڈیشل کمپلیکس کو جانے والے راستوں کو رکاوٹیں اور کنٹینرز لگا کر بند کیا گیا تھا۔

اس سے قبل نیب مریم نواز کو چوہدری شوگر ملز کیس میں تحقیقات کے لیے طلب کرتا رہا ہے، وہ 31 جولائی کو نیب میں اس معاملے میں پیش ہوئیں، جہاں تین رکنی ٹیم نے 45 منٹ تک ان سے تفتیش کی، پیشی کے بعد نیب کے مطابق انھیں ایک نیا سوالنامہ بھی دیا گیا، مریم نواز کو اسی معاملے میں جمعرات کے روز بھی نیب کے سامنے پیش ہونا تھا تاہم پیشی سے قبل ہی انھیں حراست میں لے لیا گیا۔

مریم نواز کو حراست میں لیے جانے کی خبر پر اسلام آباد میں جاری قومی اسمبلی کے اجلاس میں مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا۔ اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب میں حکومت پر سخت الفاظ سے تنقید کی۔ مریم نواز کی گرفتاری کے خلاف مسلم لیگ ن کے اراکین صوبائی اسمبلی نے پنجاب اسمبلی میں ایک قرارداد بھی جمع کروائی، جس میں کہا گیا کہ ایوان مریم نواز کی اس جعلی کیس میں گرفتاری کی مذمت کرتا ہے۔ نیب ایک آمر کا بنایا قانون ہے جو آج بھی آمریت کے ساتھ چلایا جا رہا ہے۔

پس منظر

واضح رہے کہ شریف خاندان کے اراکین حسن نواز، حسین نواز اور مریم نواز چوہدری شوگر مل میں مبینہ شراکت دار کی حیثیت سے منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت تفتیش کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس کیس میں شریف خاندان پر چوہدری شوگر مل میں سال 2001 سے 2017 کے درمیان غیر ملکیوں کے نام پر اربوں روپے کی بھاری سرمایہ کاری اور انہیں لاکھوں روپے کے حصص دینے کا الزام ہے۔ اس سے پہلے قومی احتساب بیورو نے ایون فیلڈ ریفرنس میں بھی مریم نواز کو ملزم بنایا تھا۔

یہ کیس نو ماہ اور ایک سو سات سماعتوں پر محیط احتساب عدالت میں جاری رہا۔ اس مقدمے کا فیصلہ جولائی 2018 میں آیا تھا۔ اس فیصلے کے مطابق نواز شریف، مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹین ریٹائرڈ صفدر کو قید اور جرمانے کی سزا سنائی گئیں۔ سزا سنائے جانے کے بعد وطن واپسی پر مریم نواز کو ان کے والد سمیت اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا تھا جہاں انہوں نے تقریباً دو ماہ کا عرصہ گزارا تھا۔

اس سزا کے خلاف نواز شریف سمیت تمام ملزمان نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا جس نے ستمبر 2018 میں ان سزاؤں کو کالعدم قرار دے دیا تھا اور مریم نواز کو رہائی ملی۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں