ہوم   >  پاکستان

میں اس ملک کے لیے ایمانداری کی مثال ہوں،مصطفیٰ کمال

1 month ago

پاک سرزمین پارٹی کے چئیرمین مصطفی کمال نے کہا ہے کہ کوئی بھی آئینی ترمیم کشمیر کی آزادی کو روک نہِیں سکتی،انڈیا کی غلطی ہے کہ پاکستان کی فوج 7 لاکھ ہے، بلکہ 22 لاکھ فوج ہے، بھارت اپنی تباہی کے عنقریب ہے، کشمیر بھی بھارت کے لیےقبرستان ثابت ہوگا۔ کراچی میں عدالت کے باہر...




پاک سرزمین پارٹی کے چئیرمین مصطفی کمال نے کہا ہے کہ کوئی بھی آئینی ترمیم کشمیر کی آزادی کو روک نہِیں سکتی،انڈیا کی غلطی ہے کہ پاکستان کی فوج 7 لاکھ ہے، بلکہ 22 لاکھ فوج ہے، بھارت اپنی تباہی کے عنقریب ہے، کشمیر بھی بھارت کے لیےقبرستان ثابت ہوگا۔


کراچی میں عدالت کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے مصطفی کمال نے کہا کہ وزیر بحری امور علی زیدی نے پہلا موقف دیا تھا کہ وزیر بلدیات استعفی  دے دیں تو میں شہر صاف کردوں گا، اس کے بعد پھرسے ان کا موقف تبدیل ہوا اور کہا کہ اب شہر نہیں بلکہ 28 نالے صاف کرینگے۔


مصطفی کمال نے اپنے متعلق کیس کے حوالے سے بتایا کہ مجھ پر نیب نے ریفرنس بنایا ہے، ریفرنس کا عنوان غیر قانونی الاٹمنٹ ہے جبکہ ریفرنس میں اس کا ذکر ہی نہیں ہے، اِیک نجی زمین کو سرکاری بندہ کیسے الاٹ کرسکتا ہے، عدالت اور ادارہ کا احترام کرتے ہیں، کوئی بھی میری شخصیت پر سوال نہیں اٹھا سکتا، میں اس ملک کے لیے ایمانداری کی مثال ہوں۔


 انھوں نے کہا کہ اگر میں بے ایمان ہوتا تو میرے بھی آمدن سے زائد اثاثے ہوتے، لوگ غبن کرکے وکٹری کے نشان بنائے گے، ہم جیسے لوگوں کے لیے ہماری ساری دولت ہماری عزت ہے۔


انھوں نے کہا کہ دنیا میں مجھے بہترین میئر کا اعزاز دیا گیا تھا، لوگ آج تک میرے کام کو یاد کرتے ہیں، جو لوگ بھی یہ شرارت کر رہے ہِیں، انہیں مایوسی ہوگی، جب جب عدالت بلائے گی ہم آئیں گے، میرے بعد کی نسل کہے گی کہ جب صحیح کام کرنے پرمصطفی کمال کو نہیں بخشا توہم کیوں کرینگے۔


خطے کی صورتحال سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ بھارت اپنی خارجہ پالیسی میں مکمل ناکام ہوگیا ہے، بھارت افغانستان کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کروا رہا تھا، امریکا افغان مذاکرات میں بھارت کو مکھی کی طرح نکال پھینکا ہے، 13 اگست کو افغان طالبان اور امریکہ میں معاہدہ ہوجائے گا اور  افغانستان سے امریکہ اپنی فوج کا انخلا شروع کردے گا۔


کراچی کی صفائی سے متعلق کچرا مہم پر انھوں نے کہا کہ ایف ڈبلیو او نالے صاف کرنے کے لیے1  ارب سے زائد رقم مانگ رہا ہے، تاہم کچرا پھر بھی نہیں اٹھے گا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ صفائی کی مہم نہیں چل سکتی، صفائی روزانہ کا کام ہے، حکومت سندھ  کو برا بھلا کہنے سے صفائی نہیں ہوسکتی۔


 چئیرمین پی ایس پی نے تجویز دی کہ وفاقی وِزیر و صوبائی حکومت کے درمیان معاملات طے ہوں اور یہ صفائی کے معاملات میئر کو دیں، میئر کراچی  کو با اختیار کرنا ہی ان مسائل کا حل ہے۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں