Friday, January 22, 2021  | 7 Jamadilakhir, 1442
ہوم   > Latest

فنڈز میں کٹوتی کے باعث پشاور یونیورسٹی سنگین مالی بحران کا شکار

SAMAA | - Posted: Jul 31, 2019 | Last Updated: 1 year ago
SAMAA |
Posted: Jul 31, 2019 | Last Updated: 1 year ago

ہایئر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے فنڈز میں کٹوتی کے باعث پشاور یونیورسٹی سنگین مالی بحران کا شکار ہوگئی جس پر ادارے نے ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنے کیلئے قرض مانگنا شروع کردیا ہے۔

یاد رہے کہ قیام پاکستان کے بعد پشاور یونیورسٹی ملک کی پہلی یونیورسٹی ہے جس کی تعمیر کا اعلان قائداعظم محمد علی جناح نے 1948 میں اسلامیہ کالج کے دورے پر کیا تھا مگر اب یہ تاریخی  یونیورسٹی شدید مالی بحران کے بھنور میں پھنس چکی ہے۔

یونیورسٹی حکام کے مطابق حالات اس نہج تک پہنچ چکے ہیں کہ ملازمین کو جولائی کی تنخواہیں دینے کے پیسے نہیں جس پر انتظامیہ نے بینکوں سے قرضے لے لئے ہیں۔

یونیورسٹی زرائع کے مطابق ادارہ اس وقت 70 کروڑ کے خسارے سے چل رہا ہے جبکہ یونیورسٹی کے 3 ہزار سے زائد ملازمین اور 1500 سے زائد ہیں جن کے لئے یونیورسٹی کو فوری طور پر 3 ارب روپے درکارہیں۔

حکام کے مطابق بجٹ میں یونیورسٹی کو 400 ملین روپے ملے جس میں ایک ارب 4 کروڑ سے زائد پنشن کی مد میں خرچ ہوئے۔

یونیورسٹی کے ترجمان علی عمران بنگش نے بتایا کہ انتہائی مشکل سے مالی معاملات چلا رہے ہیں۔ ایچ ای سی نے ہمارے فنڈز پر کٹ لگا دی ہے جس سے صورتحال مزید گھمبیر ہوتی جارہی ہے۔ دوسری جانب صوبائی حکومت بھی گرانٹ روک دی ہے۔

ترجمان کے مطابق صوبائی حکومت کو مالی بحران سے متعلق آگاہ کردیا ہے۔ اگر یہی صورتحال رہی تو یونیورسٹی مزید قرضوں میں ڈوب جائے گی۔

واضح رہے کہ ماضی قریب میں طلبہ کی جانب سے یونیورسٹی انتظامیہ پر ضرورت سے زیادہ بھرتیوں اور منظور نظر افراد کو نواز نے کا الزام لگایا گیا اور طلبہ نے نیب کو تحقیقات کے لئے درخواستیں بھی دی تھیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube