ڈی جی ایس بی سی اے کراچی میں غیر قانونی تعمیرات کو روکنے کیلئے پُرعزم

July 20, 2019

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے نئے ڈائریکٹر جنرل ظفر احسن نے کراچی میں جاری غیر قانونی تعمیرات کے حوالے سے اپنا لائحہ عمل پیش کردیا ۔

سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے ایس بی سی اے کے ڈی جی نے تسلیم کیا کہ شہر میں جاری غیر قانونی تعمیرات کی بھرمار ہے، جس کو ختم کرنے کیلئے ٹاسک فورس کی تعداد میں اضافہ ناگزیر ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ’پہلے سے موجود چار ٹاسک فورسز شہر میں جاری غیر قانونی تعمیرات کو روکنے کیلئے نا کافی ہیں جس کیلئے ان کی تعداد کو بڑھانے پر ٖور کیا جارہا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ کنڑول بلڈنگ اتھارٹی میں افرادی قوت کی شدید کمی ہے جس کو پورا کرنے کیلئے سندھ حکومت کو خط کے زریعے آگاہ کردیا ہے۔

غیر قانونی تعمیرات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ زیادہ تر شہر میں غیر قانونی تعمیرات پسماندہ علاقوں میں ہورہی ہیں جن میں لیاقت آباد ، کورنگی ، لیاری ، اورنگی ٹاون اور اس سے ملحقہ علاقے ہیں ۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ ہمارے ادارے کے بلڈنگ انسپیکٹرز اور اسسٹنٹ ڈائریکٹرز شہر میں جاری غیر قانونی تعمیرات کروانے میں ملوث ہیں اور اب ایسے کالی بھیڑوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔

شہر میں غیر قانونی تعمیرات میں ملوث افراد ایک مافیا کا روپ دھار چکے ہیں اور یہ مافیا وقت پڑنے سیاسی اثرو رسوخ کا استعمال کرتے ہیں ۔

ڈی جی ایس بی سی اے کا کہنا تھا کہ شہر میں غیر قانونی تعمیرات کی دو بڑی وجوہات ہیں جن میں ایک حکومت کی جانب سے طویل عرصے سے کسی بھی ہاوسنگ اسکیم کا اجرا نہ ہونا ہے، جس کی وجہ سے لوگ ہاوسنگ کی ڈیمانڈ اور سپلائی میں فرق بڑھتا جارہا ہے جس کی وجہ سے لوگ غیر قانونی تعمیرات کی طرف مائل ہورہے ہیں۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ یوٹیلیٹیز فراہم کرنے کے ادارے ایس بی سی اے کی منطوری کے بغیر ہی غیر قانونی تعمیرات میں کنکشن مہیا کردیتے ہیں ۔