ہوم   >  پاکستان

جوتے صاف کرنے کے بجائے مشکل راستہ چنا، مریم نواز کا خصوصی انٹرویو

1 month ago

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ میرا مقصد اداروں سے لڑائی نہیں۔ عمران خان دو ٹکے کے اقتدار کے لیے جمہوری اقدار روندنے کیلئے تیار ہیں۔ انتقامی کارروائی سے بچنے کیلئے جوتے صاف کرنے پڑتے ہیں لیکن میں نے مشکل راستہ چنا۔

امریکی نشریاتی ادارے کو خصوصی انٹرویو میں مریم نواز نے موجودہ صورتحال میں اپنی سیاسی جدوجہد، آئندہ کے لائحہ عمل اور غیر سیاسی قوتوں کے کردار پرکھل کر بات کی ہے۔

انٹرویو کے دوران والد کے ساتھ ہونے والی نناانصافی سے متعلق سوال پران کا کہنا تھا کہ یہ صرف میں نہیں کہہ رہی کہ نواز شریف کے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے بلکہ پورا پاکستان کہہ رہا ہے۔ میاں صاحب کو سزا دینے والے جج خود کہہ رہے ہیں۔ انہوں نے خود بتایا کہ کس طرح سے انہیں ایک ذاتی ویڈیو دکھا کر نواز شریف کو سزا دینے کیلئے مجبور کیا گیا۔

پاناما کیس کو پاناما سازش کہتےہوئے مریم نے کہا کہ وہ اقامہ پر جا کر اختتام پزیر ہوا۔ دنیا جانتی ہے کہ اقامہ ایک رہائشی ویزہ ہے اور اس کی خیالی تنخواہ نہ لینے پر 22 کروڑ عوام کے وزیراعظم کو نااہل قرار دیتے ہوئے آفس سے نکال دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ واٹس ایپ جے آئی ٹی قائم کی گئی جس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے بعد ’دیکھ بھال کر‘ ججز کا انتخاب کیا گیا کہ کون سے ججز کو کس وجہ سے بلیک میل کیا جاسکتا ہے۔ اس گیم کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی تھی جس میں میڈیا کے کچھ عناصر بھی شامل تھے۔ کچھ وہ تھے جو کسی پر الزام عائد کرنے کیلئے ہروقت تیار رہتے ہیں جبکہ بعض کو ڈرا دھمکا کر اس کام کیلئے تیار کیا گیا۔

مریم نواز نے پاناما کیس کے دوران سامنے آنے والی ایک ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک کرنل صاحب عدالت سے باہر نکالتے ہوئے ویڈیو بنائے جانے پر اپنا منہ موبائل سے چھپا رہے تھے ، وہاں سے لے کر دیکھا جائے تو جسٹس شوکت عزیز صدیقی تک نے کہا کہ مجھ پردباؤ تھا، کہا گیا کہ مریم اور نواز شریف کو ضمانت نہیں دینی۔ آج وہ خود انصاف کی تلاش میں ہیں۔

جج ارشد ملک کے حوالے سے مزید ویڈیوز یا شواہد سے متعلق سوال پر مریم نے کہا کہ احتیاط کا مظاہرہ کر رہی ہوں۔ بیٹی ہونے کے علاوہ ایک پاکستانی ہوں اور میرا مقصد اداروں سے لڑائی نہیں بلکہ ان کی مضبوطی ہے۔ جمہوری اصولوں کو مضبوط کرنا چاہیے۔

مریم نواز نے کہا کہ میاں صاحب پرعائد کیے جانے والے الزامات عدالت میں بعد میں اور میڈیا پر پہلے لگائے گئے تھے۔ میری جنگ والد تک محدود نہیں، میرے والد 3 بار کے وزیراعظم اور پاکستان کے منتخب لیڈر ہیں جن کی ملک کیلئے خدمات ہیں۔ انصاف اور آٗئین کا ایشو ان سے جڑا ہے جو میرا نہیں ہر پاکستانی کا مسئلہ ہے۔احتساب کا پورا فساد بنا کر وزرائے اعظم کے ساتھ جو کیا جاتا ہے وہ صرف نواز شریف کے ساتھ نہیں ہوا، بے نظیر اور ذوالفقارعلی بھٹو بھی اسکی زد میں آئے۔ میری لڑائی ان کے لیے بھی ہے۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ آئین میں ہر ادارے کا کردار واضح ہے۔ بالادست عوام کی مرضی کو حاصل ہے اور حکومت چلانا ان کے منتخب نمائندوں کا کام ہے۔ اگراس توازن کو زبردستی دبانے یا جھکانے کی کوشش کی جاتی ہے تو نہ صرف عدم توازن پیدا ہوگا بلکہ تباہی آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں گزشتہ 70 سال سے بالواسطہ یا بلاواسطہ جمہوریت معطل رہی ہے اور جمہوری روایات کو کبھی پنپنے نہیں دیا گیا جس کے باعث سیاسی انتشار پیدا ہوتا ہے۔ دنیا کے کسی بھی ملک کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں تو سیاسی عدم استحکام کا شکار رہنے والے ممالک کبھی ترقی نہیں کرتے۔ اسی لیے پاکستان کی ترقی کو بھی بار بار بریک لگ جاتا ہے۔

مریم نواز نے ملک کی موجودہ صورتحال پرکڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 2018 کے الیکشن کے بعد ملک میں ڈکٹیٹر شپ تو نہیں ہے لیکن اس کی باقیات ہیں۔ جمہوری اقدار کو روندا جا رہا ہے۔ عمران خان دو ٹکے کے اقتدار کے لیے جمہوری اقدار کو روندنے کیلئے تیار ہیں اور میری نظر میں اس سے بڑا کوئی گناہ نہیں۔ 22 کروڑ عوام عمران خان کے اقتدار کے شوق کو بھگت رہے ہیں۔

وزیراعظم کیلئے لفظ سلیکٹڈ کے استعمال سے متعلق سوال کے جواب میں مریم نوازنے کہا کہ انہیں پاکستان کے عوام نے منتخب نہیں کیا۔ پارلیمنٹ میں اس لفظ پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد پوری دنیا یہی کہہ رہی ہے۔ الیکشن میں 3 مراحل میں دھاندلی کی گئی، پولنگ سے پہلے، پولنگ والے دن اور پوسٹ پول دھاندلی جو آج تک جاری ہے۔ اداروں کی جانب سے حمایت حکومت کی بیساکھی ہے جسے ہٹاتےہی آپ دیکھیں گے کہ حکومت منہ کے بل زمین پرگرے گی اور انہیں اٹھانے والا بھی کوئی نہیں ہوگا۔

ایک سوال کے جواب میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ ہمارا کیس جیسے بھی لڑا جاتا نتیجہ یہی آنا تھا کیونکہ یہ احتساب نہیں طے شدہ انتقام ہے۔ ہر وہ شخص جو انہیں چیلنج کرے ، جس کی عوام میں جڑیں ہوں اور ان کیلئے خطرہ بن سکتا ہو اسے ہٹانے کا یہی طریقہ ہے۔

آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق بتاتے ہوئے مریم نوازنے کہا کہ یہ سب بہت زیادہ دیرتک نہیں چل سکتا۔ میں فی الحال ریلیوں کی قیادت کروں گی۔اپنے والد کے لیے لڑنے کے علاوہ ہر پاکستانی کی جنگ لڑ رہی ہوں جو قانون کی بالادستی، ووٹ کوعزت دلوانے اور میڈیا پر عائد پابندیوں کے خلاف بھی ہوگی۔ میں 20 ہزار روپے تنخواہ لینے والے عام آدمی اور تاجر کیلئے بھی لڑوں گی اور حالات کے مطابق حکمت عملی طے کروں گی۔

مریم نواز نے واضح کیا کہ ایک خاتون کا لیڈر کے طور پر سامنے آنا آسان نہیں۔ اسے زیادہ سخت کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے۔ خاتون کے کپڑوں جوتوں سے توجہ ہٹا کر اس کی کارکردگی پر توجہ لانا بہت مشکل ہے جو کہ مجھے اپنی پارٹی میں بھی کرنا ہے کیونکہ ن لیگ بھی مردوں کی جماعت رہی ہے۔

ن لیگ کی نائب صدر نے کہا کہ ذاتی خواہشات ہوتیں تو میں جدوجہد کا راستہ اختیار نہ کرتی۔ دوسرا راستہ مجھے بھی آتا ہے جو بہت سے لوگ آج بھی لیتے ہیں اور وہ بہت آسان ہے۔ اس میں آپ کو صرف ہاتھ جوڑنے پڑتے ہیں، عزت نفس قربان کرنی پڑتی ہے اور جوتے صاف کرنے پڑتے ہیں لیکن میں نےمشکل راستہ چنا جس کی پچھلے 3 سال میں بڑی قیمت چکائی ہے ۔

مریم نواز نے ڈان لیکس اور پاناما کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میرا دونوں کیسز سے کوئی لینا دینا نہیں تھا لیکن میں ان سے گزرکرآئی۔ نیب کورٹ میں مجھے سزا ہوئی، 3 ماہ جیل میں گزارے ، والدہ کا انتقال ہوا، بیماروالد جیل میں ہیں، یہ راستہ بہت مشکل ہے لیکن بطور مریم نواز میرے لیے تاریخ کی درست سمت میں کھڑے ہونا اہم ہے۔

سابق صدر آصف زرداری کا انٹرویو نشر نہ ہونے اور میڈیا پر قدغن کے حوالے سے سوال کے جواب میں مریم نواز نے کہا ایسا ماضی میں بھی نہیں ہوا، بدترین سویلین مارشل لاء، انسانی حقوق اور آزادی رائے کے اظہار کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ مجھ سمیت ہر مخالف پر بدترین پابندیاں ہیں۔ میرا انٹرویو بھی آف ائر کیا گیا اگر سچ سے اتنا ڈر لگتا ہے تو جھوٹ کا سہارا نہ لیتے۔

انہوں نے کہا کہ میرے بیانات ٹی وی پر نہیں آتے، اگر بیان دوں تو حکومت کے 35، 40 ترجمانوں کو جواب دینا پڑتا ہے جن کی نوکری ہی مریم نواز کو جواب دینے کی ہے۔ یہ پابندی میڈیا ہاؤسز اور صحافیوں پر بھی ہے۔ یہ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے سے سامنے درپیش خطرہ آپ کو نظر نہیں آرہا تو اس سے خطرہ ٹل نہیں جائے گا۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں