ٹیکس وصولی بہتر بنانے کیلئے کراچی میں اگلے سال پراپرٹی سروے کا فیصلہ

July 17, 2019

سندھ حکومت ورلڈ بینک کی مدد سے آئندہ سال سے 33 ارب 60 کروڑ روپے کا ایک ’مسابقتی اورپائیدار کراچی شہر‘ منصوبہ شروع کررہا ہے جوکہ 5 سال کے عرصے میں مکمل ہوگا۔ اس منصوبے کے تحت اگلے سال کراچی میں پراپرٹی کا تفصیلی سروے بھی ہوگا جس کے ذریعے ٹیکس کی وصولی میں بہتری آئے گی۔

یہ بات بدھ کو وزیراعلیٰ سندھ نے ورلڈ بینک کے دو رکنی وفد جس کی قیادت قائم مقام کنٹری ڈائریکٹر مس میلنڈا گوڈس کررہی تھیں کے ساتھ ایک اجلاس کے موقع پر کہی۔ وفد مین ورلڈ بینک کی قائم مقام کنٹری ڈائریکٹر مس ملنڈا اور سنیئر آفیسر امینہ راجا شامل تھیں۔

اجلاس میں صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی، چیف سیکریٹری ممتاز شاہ، چیئرپرسن پی اینڈ ڈی ناہید شاہ، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو، سیکریٹری بلدیات خالد حیدر شاہ اور دیگر نے شرکت کی۔

اس منصوبے کا مقصد کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن اور تمام 6 ضلعی میونسپل کارپوریشن ، ڈسٹرکٹ کونسل کراچی اور محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے ساتھ شہر میں تفصیلی پراپرٹی سروے کے حوالے سے تعاون کرنا ہے۔ صوبائی محکمہ سرمایہ کاری کے ساتھ بھی اس منصوبے کے تحت کاروبار کو سہل بنانے کے حوالے سے مثبت اقدامات اٹھانے کے لیے تعاون کیا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے چیف سیکریٹری سندھ کوہدایت کی کے کہ وہ کے ایم سی، ڈی ایم سیز، ضلعی کونسل اور محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے ساتھ ایک مشترکہ اجلاس منعقد کریں تاکہ پراپرٹی ٹیکس جمع کرنے کے حوالے سے باضابطہ طورپر حکمت عملی وضع کی جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ میں شہر میں بلدیاتی اداروں کومالی طور پر مستحکم کرنے کا خواہاں ہوں تاکہ وہ خود کفیل ادارے بن سکیں۔ اس منصوبے کے تحت متعلقہ لوکل باڈیز کی پراپرٹی ٹیکس جمع کرنے کے حوالے سے استعداد کار میں اضافہ کیاجائے گا۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج سسٹم اپرومنٹ پروجیکٹ ورلڈ بینک کے تعاون سے 1.6 بلین ڈالر سےشروع کیا گیا جس میں 12 سال کے عرصے کے دوران اس کے تحت کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈکی اوورہالنگ کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ میں کے ڈبلیو ایس بی کو ایک خود انحصار اور خدمات کی فراہمی کی حوالے سے ایک موثر ادارہ بنانے کا خواہاں ہوں۔ ورلڈ بینک کی ٹیم اور وزیر اعلیٰ سندھ نے اپنے اجلاس میں طریقے کار اور عملدرآمد کے حوالے سے حکمت عملی وضع کرنے جیسے امور پر تبادلہ خیال کیا۔

چیئرپرسن پی اینڈ ڈی ناہید شاہ نے اجلاس کو بتایا کہ کے ڈبلیو ایس بی کی اوور ہالنگ کی اسکیم کے پہلے مرحلہ کے لیے 14.7 بلین روپے کی منظوری دی گئی اور اس کے لیے 5 سال کا عرصہ رکھا گیا ہے اور اس کی سی ڈی ڈبلیو پی سے بھی منظوری دی جاچکی ہے۔

کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کا منصوبہ 3 مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلے مرحلے کی تخمینی لاگت 400ملین ڈالر ہے اور اس میں واٹر اینڈ ویسٹ واٹر سروسز کو بہتر بنانے اور کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے لیے مالی طورپر قابلِ عمل یوٹیلیٹی میں منتقلی کے حوالے سے ادارتی اصلاحات لانے پرتوجہ مرکوز کی گئی ہے۔

منصوبے کے تحت ورلڈ بینک کے ڈبلیوایس ایس آئی پی کے تین سرمایہ کاری منصوبوں میں 400 ملین ڈالرز کی فنانسنگ کرے گا جس میں کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ میں ریفارم کے لیے 30 ملین ڈالر اور 350 ملین ڈالر پانی کی فراہمی اور نکاسی کوپائیدار بنانے اور پروجیکٹ مینجمنٹ اور اسٹڈیز کے لیے 20 ملین ڈالرز شامل ہیں۔

کراچی اربن مینجمنٹ پروجیکٹ (کے یو ایم پی) کو کمپیٹیٹیو اینڈ لائیوایبل سٹی آف کراچی (سی ایل آئی سی کے) کا نام دیاگیاہے۔ یہ 250 ملین ڈالرز کا منصوبہ ہے اور یہ 5 سال کے عرصے میں مکمل ہوگا۔ اس منصوبے کے 3 عناصر ہیں جس میں کارکردگی کی بنیاد پر کراچی اربن لوکل کونسلز کی بلاک گرانٹس کے لیے 120 ملین ڈالرز ؛50 ملین ڈالرز گندے پانی کی نکاسی اور سولڈ ویسٹ مینجمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور اسٹریٹیجک انفرااسٹرکچر انویسٹمنٹ کے لیے اور اربن امموایبل پراپرٹی ٹیکس ریفارم کے لیے سپورٹ اور ادارتی استعدادکار میں اضافے کے لیے 30 ملین ڈالرز، ٹیکس ریفارم کمپونینٹ میں اربن امموایبل پراپرٹی ٹیکس (یو آئی پی ٹی) کی ڈیویلیو ایشن اور بہتری کے لیے تعاون شامل ہے۔

کراچی اربن لوکل کونسل کے لیے کارکردگی کی بنیاد پر بلاک گرانٹس کے لیے 120 ملین ڈالرز کی منظوری دی گئی ہے۔ اس کے ذریعے کے ایم سی اور 6 ڈی ایم سیز کوان کی اربن لوکل کونسلز کو ان کی ادارتی کارکردگی اور استعداد کار میں اضافے،فنانشل مینجمنٹ ، پروکیورمنٹ، سماجی اور ماحولیاتی ، کاروباری ماحول اور سٹیزن انگیجمنٹ/اکاﺅنٹیبلیٹی کے لیے گرانٹس دی جائیں گی۔ یہ گرانٹس کے ایم سی اور ڈی ایم سیز کے متعلقہ مینڈیٹس کے تحت مقامی سطح پر انفرااسٹرکچر اور میونسپل سروسز کے فنڈ کے طورپر استعمال ہوں گی تاکہ کراچی رہائش کے لیے ایک بہتر اور مسابقتی شہر کے طورپر ترقی کرسکے۔

اس کے علاوہ چھوٹے سیکنڈری /علاقائی نکاسی کے کاموں ، میونسپل سڑکوں، اسٹریٹ لائٹس ، پارک اور دیگر پبلک مقامات ،سرکاری عمارتوں اور مارکیٹوں کے لیے استعمال ہوگا۔ اسٹوم واٹر ڈرینیج اینڈ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ کے انضمام اور استعداد کار اور اسٹریٹیجک انفرااسٹرکچر انویسٹمنٹ کے لیے 50 ملین ڈالرز ہیں، یہ اسٹریٹیجک سٹیوائڈ (اندرونی حدود) انفرااسٹرکچر کے لیے فنانس کی جائے گا۔

شہری غیر منقولہ پراپرٹی ٹیکس ریفارم کے لیے تعاون اور ادارتی استعداد کار کے لیے 30 ملین ڈالرز کا حصہ ہے۔ اس کے تحت اربن غیر منقولہ پراپرٹی ٹیکس(یو آئی پی ٹی) کی ڈیویلیوایشن اور بہتری کے لیے تعاون کیا جائےگا۔ اس کے تحت یو آئی پی ٹی کے انتظامی امور کو کراچی کی لوکل باڈیز کو تفویض کرنے کے حوالے سے بھی تعاون کیا جائے گا۔

ریگولیٹری انوارمنٹ میں اضافے اور مسابقتی کراچی کے لیے انفرااسٹرکچر میں فنانسنگ کے لیے تعاون کیا جائے گا اوریہ 50 ملین ڈالرز تک ہوں گے۔ اس کے تحت کراچی میں مسابقتی عمل کی بہتری کے لیے ،ریگولیٹری انوارمنٹ میں اضافے اور انفرااسٹرکچر کے حوالے سے فنانسنگ،روڈ میپ اور حکمت عملی وضع کرنے کے حوالے سے تعاون کیاجائےگا۔

فنانسنگ کے حوالے سے اہم کام مجوزہ کراچی انفرااسٹرکچر فنڈ (کے آئی ایف) کے قیام اور ڈیولپنگ کے لیے فزیبلیٹی اسٹڈی اور فنی تعاون شامل ہے۔ کے ایم سی اور ڈی ایم سیز کے پی پی پی کے پائلیٹنگ کے لیے فنی تعاون کے پروگرام کو ہدف بنانا شامل ہے۔ اس کے تحت ریگولیٹری اور کاروباری ماحول بہتر ہوگا اور اس کے ساتھ ساتھ ریگولیٹری گورننس اور تجارتی تصفیہ طلب قراردادیں کو بہتر بنانے بالخصوص پراپرٹی کے حقوق سے متعلق بھی مدد ملے گی۔

منصوبے کی اہم کوآرڈی نیٹنگ ایجنسی صوبائی محکمہ بلدیات ہوگا۔ پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ قائم کیا جائے گا تاکہ کراچی کی لوکل کونسلز کو مجموعی طورپر ضروری باہمی تعاون اور فنی امداد فراہم کی جا سکے۔ اس منصوبے میں مخصوص مداخلت کے لیے عمل درآمد ایجنسیوں میں کے ایم سی ، ڈی ایم سیز، کراچی واٹر بورڈ اور محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اپنے متعلقہ اجزا کے لیے انتظامات کے ذمہ دار ہوں گے۔