سوات میں 13 سالہ لڑکی سورہ قرار، جرگہ ارکان سمیت 13 افراد گرفتار

July 17, 2019

سوات کے علاقے چارباغ میں جرگہ نے 13 سالہ لڑکی کو قبیح رسم سورہ کی بھینٹ چڑھا دیا۔ پولیس نے جرگہ کے ارکان اور نکاح خوان سمیت 13 افراد کو گرفتار کر لیا۔

سورہ پاکستان کے دور دراز علاقوں میں رائج ایک قدیم رسم ہے۔ جب دو فریقوں کا آپس میں کوئی تنازع ہو، کسی مرد پر خاتون کے ساتھ ناجائز تعلقات یا کسی کے قتل کا الزام ہو تو فریقین میں صلح کرانے کیلئے ملزم فریق کے خاندان سے بدلے میں لڑکی دی جاتی ہے۔

پولیس کے مطابق سوات کی تحصیل چارباغ کے گاؤں کنڈاؤ میں شیرزادہ نامی شادی شدہ شخص پر ایک معذور لڑکی کے ساتھ تعلقات کا الزام عائد کیا گیا جس پر گاؤں میں جرگہ منعقد ہوا اور شیرزادہ کا اس لڑکی کے ساتھ نکاح کردیا گیا۔

جرگہ نے شیرزادہ کو اس معاملے میں قصوروار قرار دیتے ہوئے اس کی 13 سالہ بیٹی کو سورہ قرار دے کر مخالف فریق کے ایک 17 سالہ لڑکے سے نکاح کرادیا۔

تھانہ چارباغ کے ایس ایچ او بختی اللہ کے مطابقن اطلاع ملنے پر کارروائی کرتے ہوئے جرگہ کے ارکان اور نکاح خوان سمیت 13 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔

کمسن لڑکی کا نکاح پڑھانے والے مولوی محمد عثمان نے پولیس کو بتایا ہے کہ مجھے سورہ کا کوئی پتہ نہیں تھا۔ میں یہاں مسافر ہوں مجھے ساری کہانی سے لاعلم رکھ کر صرف نکاح پڑھانے کا کہا گیا تھا۔

لڑکی کے باپ اور واقعے کے مرکزی کردار شیرزادہ نے کہا ہے کہ مجھ پر معذور لڑکی سے تعلقات کا بے بنیاد الزام عائد کیا گیا اور جب جرگہ منعقد ہوا تب میں نے کہا تھا کہ تھانہ اور عدالتیں موجود ہیں۔ مگر جرگہ نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔