بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی اب تمام موبائل فونز پر ٹیکس ادا کریں گے

July 17, 2019

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ذاتی سامان کے قوانین میں کچھ تبدیلیاں کی ہیں جس کے نتیجے میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو اب وطن واپسی آتے ہوئے اپنے موبائل فونز پر ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔

نئے قوانین کا اطلاق آپ کے پہلے اور ذاتی موبائل فون پر بھی ہوگا جوکہ اس سے قبل کسٹمز ڈیوٹی سے مستثنیٰ سمجھا جاتا تھا۔ نئے قانون کا نفاذ یکم جولائی سے ہوچکا ہے۔ وہ  افراد جو پاکستان میں غیر ملکی سم استعمال کریں گے، انہیں پی ٹی اے سے رجسٹریشن یا ٹیکس ادا کرنے کی ضرورت نہیں، تاہم اگر وہ مقامی سم استعمال کریں گے تو انہیں 70 روز کے اندر ہر صورت رجسٹریشن کرنی اور ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے نئے قانون سے متعلق سوشل میڈیا پر مایوسی کا اظہار کیا ہے جس میں انکا کہنا تھا کہ یہ دوہرا ٹیکس ہے کیونکہ وہ پہلے ہی بیرون ملک ٹیکس ادا کرتے ہیں۔

ذاتی سامان کے گزشتہ قوانین کے تحت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو بغیر کسی ڈیوٹی ٹیکس کے اپنے ساتھ صرف ایک موبائل فون لانے کی اجازت تھی لیکن مندرجہ ذیل اسکیم کے غلط استعمال کی اطلاعات پر یہ چھوٹ ختم کر دی تھی۔ اطلاعات تھی کہ لوگ مسافروں کے درآمد شدہ فونز کو رجسٹر کرنے کیلئے ڈیٹا چوری کر رہے تھے تاکہ ٹیکس کی ادائیگی سے بچ جائیں۔ یہ کام ایک بڑے پیمانے پر ہو رہا تھا جس کی شکایت صارفین نے سماء ڈیجیٹل کے سوشل میڈیا میجز پر بھی کی۔

اسکیم کے ختم ہونے پر بیرون ملک مقیم پاکستانی کہتے ہیں کہ حکومت نے ڈیٹا کو چوری کرنے سے روکنے کے بجائے اس سہولت کو ہی ختم کر دیا ہے جوکہ کسی صورت مناسب نہیں۔

ایف بی آر نے اس پر کوئی تبصرہ تو نہیں کیا لیکن معاملے سے واقف ایک افسر نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ واقعے سے متعلق کراچی اور لاہور میں کئی گرفتاریاں ہوچکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امیگریشن، ٹریول ایجنٹس اور ائرلائنس کے پاس مسافروں کی تمام تفصیلات موجود ہیں لیکن یہ ڈیٹا کون فاش کرتا ہے یہ معلوم کرنا مشکل ہے۔ یہ حکومت کا استحقاق ہے کہ اسے کس طرح کی اشیاء کی اجازت دینی چاہیئے۔

بیرون ملک مقیم پاکستانی تاحال ایک سال میں پانچ موبائل فون اپنے ساتھ لا سکتے ہیں لیکن انہیں ہر فون پر ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

نئے قوانین کے تحت حکومت نے اسمگل شدہ فونز کے تاجروں اور درآمد کنندگان کیلئے راستے بند کر دیے ہیں۔ اسمگل شدہ موبائل فونز کی درآمد سینکڑوں سے ہزاروں میں ہے جن پر کوئی ٹیکس ادا نہیں کیا جاتا۔ حکومت کا بجٹ خسارہ اسوقت 3 ارب روپے سے زائد ہے جس کی بنیادی وجہ ٹیکس کم جمع ہونا ہے جبکہ اسمگل شدہ اشیاء بھی ایک بڑی وجہ ہے۔