شہبازشریف کی مبینہ کرپشن پر برطانوی اخبار کی خبر جھوٹی اور من گھڑت ہے،مریم اورنگزیب

July 14, 2019

مسلم لیگ نون کی ترجمان مریم اورنگزیب نے شہباز شریف کی مبینہ کرپشن سے متعلق برطانوی اخبار ڈیلی میل کی خبر کو پلانٹڈ قرار دیدیا۔ انھوں نے کہا کہ ہم ڈیلی میل کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ کریں گے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے لیگی رہنما مریم اورنگزیب نے کہا کہ برطانوی صحافی ڈیوڈ روز نے عمران خان سے ملاقات کی،ملاقات میں معاون خصوصی شہزاد اکبر بھی موجود تھے، ڈیلی میل کی رپورٹ میں ڈیوڈ روز نے کوئی ثبوت نہیں دیا ۔

انھوں نے کہا کہ برطانیہ کے کئی اخبار ڈیلی میل کی اسٹوریز کو نہیں مانتے، ڈیلی میل کی اسٹوریز بے بنیاد اور من گھڑت ہوتی ہیں، کرائے کے ترجمان صبح سے سرکاری خرچ پر جھوٹ بول رہے ہیں،خبر پلانٹ کرائی گئی ہے، ثبوت دوں گی۔

انھوں نے کہا کہ جب 2005 میں زلزلہ آیا تو اس وقت شہباز شریف ملک بدر تھے،اسٹوری میں جو وقت بتایا گیا ہے اس وقت شہباز شریف کی حکومت نہیں تھی،ایرا وفاقی حکومت کے ماتحت تھا، اس کو فنڈ دیے گئے،اس وقت وفاقی حکومت پیپلز پارٹی کی تھی۔

لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ پلانٹڈ اسٹوریز کے ذریعے ایک سازش کو فروغ دے رہے ہیں، شریف خاندان کی دشمنی میں آپ ملک کو متنازع بنارہے ہیں، یو کے ایڈ اس خبر کی تردید کرچکی ہے،اس فنڈنگ میں ایک روپے کی کرپشن بھی نہیں ہوئی، الزامات لگائے جاتے ہیں اور ثبوت کوئی نہیں ہے۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ پشاور کے میٹرو منصوبے میں بھی کرپشن ہوئی، اے ڈی بی نے کرپشن کی نشاندہی کی، شہزاد اکبر اس پر بھی نیب کا نوٹس کرائیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ڈیفیڈ نے شفافیت کی وجہ سے پاکستان کیلئے فنڈ بڑھائے،اب یہ باہر نہیں نکل سکتے، بیٹھ کر صرف ٹوئٹ کرتے ہیں، ریکارڈ نکالیں اور عوام کو بتائیں کتنی کرپشن ہوئی۔

برطانوی اخبار ڈیلی میل نے اپنے  مضمون میں تحقیقات کاروں کے حوالے سے دعوٰی کیا ہے کہ شہباز شریف کا خاندان برطانیہ میں منی لانڈرنگ میں ملوث رہا ہے، شہباز شریف کے دور اقتدار میں برطانوی حکومت نے پنجاب کے لئے 500 ملین پاؤنڈ امداد فراہم کی۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ تحقیقاتی اداروں کے مطابق شریف خاندان نے یہ رقم منی لانڈرنگ میں استعال کر دی اور برطانوی ڈیپارٹمنٹ  فارانٹرنیشنل ڈویلپمنٹ کی جانب سے بھی مبینہ منی لانڈرنگ پر اظہار تشویش کیا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ برطانوی ادارے نے بتایا کہ فنڈز فراہم کرتے وقت جانتے تھے کہ پاکستان میں کرپشن بہت زیادہ ہے، اس کے باوجود پاکستان کو دوسرے ممالک کی نسبت زیادہ فنڈز فراہم کئے گئے اور پاکستان کو سالانہ 463 ملین پاؤنڈ کی رقم بطور فنڈ دی گئی۔