نہیں معلوم ویڈیو میں کتنی حقیقت ہے، شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں، بلاول بھٹو زرداری

July 12, 2019

بلاول بھٹو زرداری کہتے ہیں کہ مجھے نہیں معلوم ویڈیو میں کتنی حقیقت ہے، آج ایک جج کو ہٹایا گیا، امید کرتا ہوں کہ معاملے کی شفاف تحقیقات ہوں گی، پی ٹی آئی کی سیاست سلیکشن کی ہے، وہ الیکشن پر یقین نہیں رکھتے، اداروں کی آزادی کیلئے آخری سانس تک لڑتا رہوں گا۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سکھر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی سیاست سلیکشن کی ہے، وہ الیکشن پر یقین نہیں رکھتے، عوام دشمن بجٹ کا مقابلہ کریں گے، کٹھ پتلی حکومت کیخلاف ہمارا احتجاج جاری رہے گا، ہمیں ذوالفقار بھٹو یا بے نظیر کے کیسز میں انصاف نہیں ملا، آخری سانس تک اداروں کی آزادی کیلئے لڑتا رہوں گا، اداروں کو آزادی کے ساتھ فیصلے کرنے چاہئیں، کسی میں ہمت نہیں ہونی چاہئے کہ وہ کسی جج پر دباؤ ڈال سکے۔

وہ بولے کہ ہمارے ادارے کسی بھی الیکشن کیلئے متنازع نہیں ہونے چاہئیں، یہ جتنے عمران خان کے ادارے ہیں، اتنے ہی ہمارے بھی ہیں، حکومت نے ملک کی عدالت عظمیٰ پر حملہ کیا، رات کے اندھیرے میں ججز کیخلاف ریفرنسز بھیجے جاتے ہیں، آج ایک جج کو ہٹایا گیا، امید ہے اس کی شفاف تحقیقات ہوں گی، مجھے نہیں معلوم ویڈیو میں کتنی حقیقت ہے۔

مزید جانیے : احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو فوری طور پر ہٹانے کا فیصلہ

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق نے جج ارشد ملک کو فوری طور پر ہٹانے کا حکم دے دیا، اس حوالے سے وزارت قانون و انصاف کو خط بھی لکھ دیا گیا، جس میں سفارش کی گئی ہے کہ الزامات کی مکمل تحقیقات تک جسٹس ارشد ملک سے ذمہ داریاں فوری واپس لی جائیں۔

چیئرمین پی پی پی کا کہنا ہے کہ کیا یہ اتفاق ہے کہ یہی جج نواز اور آصف زرداری کے کیسز سن رہے ہیں، ہم چارٹر آف ڈیموکریسی میں طے کی گئی عدالتی اصلاحات پر قائم ہوں۔

وہ بولے کہ پیپلزپارٹی نے ہمیشہ مظلوموں کا ساتھ دیا ہے، ہم اکثریت یا اقلیت میں کوئی فرق نہیں کرتے، پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت مذہب کی جبری تبدیلی کے معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیتی ہے، اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے پیپلزپارٹی نے ہر فورم پر آواز اٹھائی۔

بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ ہم نے عوام کو مفت علاج اور صحت کی سہولت دی، صحت سمیت دیگر شعبوں میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت کام کررہے ہیں، سندھ کے مختلف شہروں میں بچوں کے علاج کیلئے ایمرجنسی سینٹر قائم کردیئے، سکھر میں بھی ایسا ہی سینٹر قائم کیا جارہا ہے جس کا آئندہ 6 ماہ میں خود افتتاح کروں گا۔

سابق وزیراعظم کے صاحبزادے کا یہ بھی کہنا تھا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ پر سندھ کا مقابلہ دوسرے صوبوں سے نہیں بلکہ دوسرے ممالک سے ہورہا ہے، پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ بے نظیر بھٹو کا خواب ہے، جسے انہوں نے 1993ء میں اپنے منشور کا حصہ بنایا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ وفاق صوبوں کا معاشی قتل کررہا ہے، حصے سے کم رقم ملنے کے باعث مشکلات کا سامنا ہے، ہم چاہتے ہیں آنے والی نسل کو باعزت روزگار ملے۔