ہوم   >  پاکستان

عدالتی فیصلے تک جج کی سزا ختم یا بڑھائی نہیں جا سکتی، فروغ نسیم

3 months ago

وزیرِ قانون فروغ نسیم کہتے ہیں کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فيصلے تک احتساب عدالت کے جج کی سزا ختم يا بڑھائي نہيں جا سکتی کیونکہ حکومت قانون اور انصاف کے ساتھ کھڑي ہے۔

اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وزیرِ قانون فروغ نسیم نے کہا کہ جج ارشد ملک کو لاء ڈويژن کو رپورٹ کرنے کي ہدايت کي گئي ہے۔ ہم کسي کو عدالتوں پر دباؤ ڈالنے کي اجازت نہيں ديں گے۔

وزیرِ قانون نے کہا کہ ارشد ملک کہتے ہيں انہوں نے کسي دباؤ کے بغير فيصلے کیے ہيں۔ یقیناً جج صاحب نے دباؤ کے باوجود ميرٹ پر فيصلہ کيا۔

فروغ نسیم نے کہا کہ جج کو دھمکانے يا دباؤ ڈالنے کي سزا الگ ہے اور عدالتي فيصلے پر اثر انداز ہونے کي سزا 10 سال ہو سکتي ہے۔ انہوں نے کہا کہ جج کو کام سے روکنے پر انکے دیے فیصلوں پر اثر نہیں پڑتا اور جج کو رشوت یا دھمکی دینے سے متعلق سزائیں موجود ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق نے احتساب عدالت نمبر 2 کے جج ارشد ملک کو جمعہ 12 جولائی کو فوری طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا تھا۔

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو فوری طور پر ہٹانے کا فیصلہ

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر نے کہا کہ معاملہ دھمکيوں سے شروع ہو کر بليک ميلنگ تک جاتا ہے۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ ناصر بٹ کے ذريعے جج صاحب کو 10 کروڑ رشوت کي پيشکش کي گئي جبکہ ناصربٹ اور ناصر جنجوعہ نے لالچ اور دھمکياں بھي دی۔

انہوں نے کہا کہ بيان حلفي کے مطابق ملتان ويڈيو کے بعد جج صاحب بليک ميل ہونا شروع ہوئے۔ ناصر بٹ جج صاحب کو جاتي امرا لے کر گيا اور نواز شریف سے ملاقات کروائی۔ 28 مئي 2019 کو جدہ میں ناصر بٹ نے جج صاحب کي حسين نواز سے ملاقات کروائی جہاں حسين نواز سے ملاقات ميں آفر بڑھا کر 50 کروڑ روپے کر دي گئی۔

شہزاد اکبر نے بتایا کہ بيان حلفي کے مطابق جج صاحب کو کہا گيا کہ زبردستي فيصلے کا بول کر استعفيٰ دے ديں۔

معاون خصوصی نے مزید کہا کہ معاملہ پاناما سے شروع ہوا تھا اور جواب ايک ہي ہے کہ مني ٹريل ديں۔ مني ٹريل دينے تک آپ کي بخشش نہيں ہو سکتی۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں