احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو ہٹانے کے فیصلے پر مریم نواز کا ردعمل

July 12, 2019

اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے شریف خاندان کیخلاف ریفرنسز کا فیصلہ سنانے والے جج ارشد ملک کو فوری طور پر ہٹانے کے فیصلے پر مریم نواز کا کہنا ہے کہ اس کا واضح مطلب ہے اعلیٰ عدلیہ نے حقائق کو تسلیم کر لیا۔

احتساب عدالت کے جج کو ہٹائے جانے کے فیصلے کی خبر سامنے آتے ہی مریم نواز نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پرردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس حوالے سے اللہ کا شکر ادا کیا۔

مریم نواز نے اپنی ٹویٹس میں معاملہ جج کی معطلی کے بجائے ان کے دیے گئے فیصلے کو معطل کرنا قرار دیا۔

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو فوری طور پر ہٹانے کا فیصلہ

انہوں نے لکھا کہ معاملہ جج کو نہیں اس فیصلے کو معطل کرنے کا ہے جو انہوں نے دیا۔ معاملہ اس فیصلے کو عدالتی ریکارڈ سے نکالنے کا ہے جو اس جج نے دباؤ میں دیا۔ معاملہ جج کے بجائے فیصلے کو فارغ کرنے کا ہے۔

ایک اور ٹویٹ میں مریم نواز نے کہا کہ اس فیصلے کا واضح مطلب ہے معزز اعلیٰ عدلیہ نے حقائق کو تسلیم کرلیا ہے۔ اگر ایسا ہے تومذکورہ جج کی جانب سے دیا جانے والا فیصلہ کیسے برقراررکھا جا سکتا ہے۔

مریم نواز سوال اٹھایا کہ جج کو سزا سنا دی تو بے گناہ نواز شریف کو کیوں رہائی نہیں دی جارہی۔

مسلم لیگ ن کی نائب صدر نے اس فیصلے کو عہدے کے غلط استعمال کی وجہ کہتے ہوئے کہا کہ پھر اس مس کنڈکٹ کا نشانہ بننے والے کو کیسے سزا دی جا سکتی ہے۔

یاد رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق نے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کیلئے وزارت قانون و انصاف کو خط لکھا ہے جس میں سفارش کی گئی ہے کہ ن لیگ کی جانب سے عائد کیے جانے والے الزامات کی مکمل تحقیقات تک ارشد ملک سے ذمہ داریاں فوری واپس لینے کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے کیونکہ اب وہ بطور جج کام نہیں کر سکتے۔

احتساب عدالت کے جج کی تعیناتی وزارت قانون و انصاف کی جانب سے کی جاتی ہے۔

مسلم لیگ ن  نے جج ارشد ملک کی مبینہ  اعترافی ویڈیو پیش کردی

اس سے قبل جج ارشد ملک نے ن لیگ کی جانب سے اپنے خلاف مبینہ ویڈیو سامنے آنے کے بعد خود پرعائد الزامات کی تردید کی تھی۔ انہوں نے رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ سے ملاقات کرکے ایک خط ان کے حوالے کیا جس میں اتوار کو جاری کی گئی پریس ریلیز بھی بیان حلف کے ساتھ منسلک ہے۔

ترجمان اسلام آباد ہائیکورٹ کے مطابق چیف جسٹس خط اور بیان حلفی کا جائزہ لینے کے بعد مناسب حکم نامہ جاری کریں گے۔ جج ارشد ملک کو ڈیپوٹیشن پر اسلام آباد کی احتساب عدالت میں تعینات کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ ہفتہ 6 جولائی کو مریم نواز نے صدر ن لیگ شہباز شریف کے ہمراہ کی جانے والی ایک پریس کانفرنس کے دوران العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کو سزا سنانے والے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو میڈیا کے سامنے پیش کی تھی۔