کل 67 ارب روپے کا بیت الخلا اور حجام کی دکان

July 10, 2019

پشاور کے سینے پر بنا بی آر ٹی کا میگا منصوبہ تو نہ جانے کب چلے مگر اس منصوبے پر بنی نائی کی دکان اور بیت الخلا سے عوام کو اپنی مدد آپ کے تحت سہولت ضرور میسر آگئی ہے۔

موجود وزیر دفاع اور سابق وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے دور میں شروع ہونے والا بی آر ٹی منصوبہ تو نا جانے اپنی تکمیل پر کب پہنچے مگر اس منصوبے کی ناک کے نیچے ایک حجام نے اپنی نائی کی دکان ضرور سجا لی ہے۔ جی ہاں، المعروف بی آر ٹی منصوبہ جیسے پشاور کی شان اور کے پی کا جھومر قرار دیا جا رہا تھا، اب لوگوں کیلئے متبادل سہولیات کا ذریعہ بن گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر نظر آنے والی یہ تصویر ان دنوں خوب وائرل ہو رہی ہے، جس میں ایک شخص نائی کی مختصر سی دکان بی آر ٹی انڈر پاس پر سجائے بے فکری سے کام میں مشغول ہے۔ مگر کہانی ابھی باقی ہے میرے دوست۔۔

پشاور کے شہرییوں نے بی آر ٹی کے انڈر پاسز کو بیت الخلاء بھی بنا ڈالا ہے،ہشت نگری اور فردوس سمیت بی آر ٹی میں تعمیر کئے گئے انڈر پاسز کو شہری رفع حاجت کیلئے استعمال کرنے لگے ہیں، جب کہ شدید بدبو اور تعفن کے باعث دیگر شہریوں کا انڈر پاسز سے گزرنا محال ہو گیا ہے۔

ہشتنگری اور فردوس کے دونوں انڈر پاسز میں شہریوں کی جانب سے رفع حاجت معمول بن گئی ہے، انڈر پاسز میں شہریوں کی جانب سے پھیلائی گئی گندگی کی صفائی کا بھی کو ئی نظام نہیں، جب کہ انہی مقامات پر نشئی افراد نے بھی اپنے اڈے قائم کر لئے ہیں۔

انڈر پاسز کو عام شہریوں کی سہولت کیلئے صوبائی حکومت کی جانب سے کھول دیا گیا تھا مگر چند افراد کی جانب سے غلاظت پھیلانے کیوجہ سے اب انڈر پاسز سے گزرنا محال ہو گیا ہے۔

بی آر ٹی منصوبہ کہنے کو بس ریپٹ ٹرانزٹ جسے سنتے ہی جاپان، دبئی اور چین کی بلٹ ٹرینیں دماغ کے اسکرین پر دوڑنے لگتی ہیں، مگر جب یہ نگاہ لوٹ کر واپس اپنے مقامی منصوبے پر جاتی ہے تو سوائے افسوس کہ کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ گرد و غبار اور آلودگی سے اٹے اس ماحول میں حکام کی جانب سے بار بار تکمیل کی خبریں تازہ ہوا کا جھونکا تو لگتی ہیں مگر اس کیلئے ایک لمبا انتظار بھی ایک کھٹن مرحلہ ہے۔

اس تصویر نے نہ صرف حکومت کی اس منصوبے کیلئے سنجیدگی کا پول کھول دیا بلکہ اس منصوبے کے مستقبل پر بھی کئی سوالات کھڑے کردیئے ہیں، کچھ لوگ تو تصویر دیکھ کر ہنستے ہی چلے گئے، تاہم یہ پہلی بار نہیں ہوا، اس سے قبل بھی یہ منصوبہ متعدد مواقع پر جگ ہنسائی کا سبب بن چکا ہے۔

منصوبے کے آغاز پر جب بی آر ٹی روٹ کیلئے بسوں کو منگوایا گیا تو اس میں دو طرح کی بسیں شامل تھیں، ایک 12 میٹر اور 18 میٹر، تاہم پہلے 12 میٹر کی بسیں پشاور پہنچ گئیں، جس کے بعد حکام کو انداز ہوا کہ یہ بسیں تو اس روٹ پر نہیں چل سکیں گی، کیوں کہ راہداری تنگ اور بسیں چوڑی تھیں، جس پر بی آر ٹی بس روٹ کو دوبارہ توڑ کر بنوایا گیا، تاہم جب 18 میٹر کی بسیں پشاور پہچنیں تو حکام پھر چکرا گئے اور ایک بار پھر روٹ کو توڑ کر بنوایا گیا۔

ارے ارے جناب ابھی چکرا نہ جائے ، صرف یہ ہی نہیں، اس سے قبل حکومت کی جانب سے بی آر ٹی کو 180 دن میں پورا کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا، تاہم وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو جائے، یہ منصوبے 180 دن تو کہاں پونے دو سال میں بھی مکمل نہ ہوسکا۔

پلیٹیں ہی گر پڑیں

زرا دور نہیں جاتے اسی ہفتے کا ذکر کردیتے ہیں، جب زیر تعمیر بی آر ٹی پل کی کچھ پلیٹیں نیچے کھڑی گاڑی پر گر پڑیں، جس میں ایک شخص زخمی ہوگیا۔

گیس پائب لائن کا رشتہ

آپ کو یہ تصویر بھی شاید یاد ہو ، ارے نہیں؟ تو چلیں ہم یاد کرا دیتے ہیں۔

تعمیر کے آغاز سے اب تک 6 بار تکمیل کی تاریخ تبدیل ہونے والے پشاور کے بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے میں ایک اور غلطی اس وقت سامنے آئی، ہشت نگری انڈر پاس میں بغیر کچھ سوچے سمجھے گیس پائپ لائن نصب کر دی گئی، جس سے کئی زندگیاں خطرے کی نذر ہوگئیں۔ ہشتنگری انڈرپاس میں مین گیس پائپ لائن گزرنے کے باعث وہاں سے گزرنے والے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا۔

تاریخوں پر تاریخیں جج صاحب

اگر آپ اخبار پڑھتے ہیں تو آپ کو یہ اخبار میں دیا گیا اشتہار تو یاد ہوگا ؟؟ اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟۔

واضح رہے کہ صوبائی حکومت نے کچھ عرصہ قبل 23 مارچ 2019ء کی ڈیڈ لائن دی تھی جس کے بعد جون 2019ء کی تاریخ دے دی گئی۔ منصوبے کی تکمیل میں تاخیر کے باعث اس کی قیمت 30 فیصد بڑھ چکی ہے، جب کہ 9 بار ڈیزائن بھی تبدیل کیا جاچکا ہے، صرف رواں سال 6 بار تاریخیں دی گئیں لیکن چند اسٹیشن ہی بن سکے۔

ان تمام تر دعووں کے باوجود پشاور کے عوام کو اب بھی امید ہے کہ یہ منصوبہ ضرور مکمل ہوگا، مگر کب ؟ اس کا جواب کوئی نہیں دے سکتا۔ منصوبے کی تکمیل کی تاریخیں چھ بار تبدیل ہونے کے بعد اب صوبائی حکومت نے ایسا کوئی بھی وعدہ کرنے سے واضح انکار کردیا ہے۔