ہوم   >  پاکستان

موٹاپے کا شکار نور الحسن دوران علاج انتقال کرگئے

4 months ago

موٹاپے کا شکار صادق آباد کا رہائشی نور الحسن دوران علاج چل بسا۔ وہ لاہور کے اسپتال میں زیر علاج تھے۔

ڈاکٹر معاذ نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ موٹاپے کا شکار نورالحسن دوران علاج انتقال کرگئے، نور الحسن کي دو ہفتے قبل سرجري کي گئي تھي۔ سرجری کے بعد 330 کلو وزنی نورالحسن شالیمار اسپتال میں ہی زیر علاج تھے۔

انتقال کی وجہ

نور الحسن کی موت سے متعلق اسپتال انتظامیہ کا کہنا تھا کہ اسپتال ميں مريضہ کے انتقال پر لواحقين نے توڑ پھوڑ کي، جس پر عملہ آئي سي يو سے بھاگ گيا اور اسی دوران عملے کي غير موجودگي ميں نورالحسن انتقال کرگئے۔ دوسری جانب خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ نور الحسن کا انتقال ہارٹ اٹیک کے باعث ہوا۔

صادق آباد سے لاہور تک کا سفر

ڈاکٹر معاذ کا مزید کہنا تھا کہ نورالحسن اسپتال کے آئي سي يو ميں زيرعلاج تھے۔ دس روز تک ان کے مختلف ٹیسٹ کیے گئے، ان کے علاج کے لیے ڈاکٹرز کا خصوصی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا تھا۔ نور الحسن صادق آباد کا رہائشي تھا، جسے علاج کیلئے پاک آرمی کی فضائی ایمبولینس میں لاہور منتقل کيا گيا تھا۔ صادق آباد سے لاہور کا زمینی سفر آٹھ سے نو گھنٹے پر محیط ہے۔ اس میں خطرہ تھا کہ اس قدر زیادہ وزن والے انسان میں خون کا انجماد ہو سکتا تھا۔ اس لیے انھیں ہوائی ایمبولینس میں لایا گیا۔

 

واضح رہے کہ 28 جون کو سرجن ڈاکٹر معاذ کی سربراہی میں ایک ٹیم نے نورالحسن کا کامیاب آپریشن کیا جو ڈیڑھ گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہا، سرجری کے بعد مریض کو انتہائی نگہداشت وارڈ منتقل کردیا گیا تھا۔

نور الحسن نے اپنے ویڈیو پیغام میں آرمی چیف سے بھی مدد کی اپیل کی تھی۔ سوشل میڈیا پر نور الحسن کی ویڈیو وائرل ہونے پر آرمی چیف نے نوٹس لیتے ہوئے مریض کو علاج اور معالجے کی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی۔

 

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر صادق آباد کے رہائشی 60 سالہ نورالحسن گزشتہ تقریباً آٹھ برس سے موٹاپے کا شکار تھے۔ اس کی وجہ ان کا وزن 330 کلو گرام تک بڑھ گیا تھا۔ ان کی نقل و حرکت ایک ہی کمرے تک محدود تھی اور رفع حاجت کے لیے بھی ایک مخصوص کرسی انھوں نے اسی کمرے میں رکھی ہوئی تھی۔

 

اسپتال کے مردانہ وارڈ میں ان کے لیے خصوصی پلنگ تیار کیا گیا جس پر طبی ماہرین کی زیرِ نگرانی وہ تقریباً ایک دہائی بعد پہلی مرتبہ سیدھا لیٹ پائے ہیں۔ موٹاپے کا شکار ہونے سے قبل نورالحسن مال بردار ٹرک چلاتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ سست رو طرزِ زندگی کی وجہ سے وہ اکثر بیٹھے رہتے تھے، وہ کھانے کے شوقین  بھی نہیں تھے، تاہم سستی نے انہیں ایسا بنا دیا۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں