ہوم   >  پاکستان

مریم نواز نے جج ارشد ملک کی مبینہ اعترافی ویڈیو پیش کردی

4 months ago

مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے میاں نواز شریف کو سزا سنانے والے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو میڈیا کے سامنے پیش کردی جس میں جج خود کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے اور ان کے خلاف کسی قسم...

مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے میاں نواز شریف کو سزا سنانے والے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو میڈیا کے سامنے پیش کردی جس میں جج خود کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے اور ان کے خلاف کسی قسم کی کرپشن اور منی لانڈرنگ کا ثبوت نہیں ملا۔

مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماؤں  شہباز شریف، شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال و دیگر کے ہمراہ پریس کانفرس کرتے ہوئے  مریم نواز نے کہا کہ نواز شریف کو مفروضوں اور الزامات کی روشنی میں نشانہ بنایا گیا۔ میاں نواز شریف نے اپنے خلاف عائد تمام مقدمات کی رسیدیں دیں، ثبوت دیئے اور تین نسلوں کا حساب دیا۔ بار بار عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا لیکن ہر بار ایک نئے کیس میں تین بار کے منتخب وزیراعظم کو سزا سنا دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ آخر سزا دینے والا خود بول اٹھا کہ نواز شریف کے ساتھ زیادتی ہوئی، یہ احتساب نہیں انتقام تھا اور نواز شریف اسے جانتے تھے لیکن اس کے باوجود اپنی بیٹی کا ہاتھ پکڑ کر وطن واپس آگئے۔

اس موقع پر مریم نواز نے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیوز اور آڈیوز میڈیا کے سامنے پیش کردیں جس میں احتساب عدالت کے جج ناصر نامی ایک شخص کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نواز شریف کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا۔ ان پر ایک پائے کی کرپشن یا منی لانڈرنگ ثابت نہیں ہوئی۔ کسی بھی ٹھیکے میں کک بیکس اور کمیشن کے شواہد نہیں ملے۔

 

جج نے مزید کہا کہ جے آئی ٹی کی تحقیقات میں حسن نواز اور حسین نواز کے خلاف بھی کچھ نہیں ملا۔ ان کے خلاف پاکستان کے علاوہ سعودی عرب میں بھی کسی قسم کی بدعنوانی کا ثبوت نہیں ملا۔

مریم نواز نے کہا کہ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو ان کی ایک ’ذاتی ویڈیو‘ دکھا کر بلیک میل کرکے مرضی کا فیصلہ دلوایا گیا۔ مریم نواز کے مطابق جج ارشد ملک نے ناصر سے کہا کہ مجھے میری 10 سال پرانی ایک ویڈیو دکھا کر بلیک میل کیا جاتا رہا اور مجھے اس قدر بلیک میل کیا گیا کہ میں نے دو مرتبہ خودکشی کا سوچا۔

 

انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ جج ارشد ملک نے ناصر کو فون کرکے بتایا کہ فلاں جگہ پر مجھ سے ملاقات کرلیں۔ جب ناصر آدھے راستے میں پہنچے تو جج ارشد ملک نے انہیں فون کرکے بتایا کہ میں اپنی گاڑی بھیج رہا ہوں، آپ اس میں بیٹھ کر میرے گھر آجائیں۔ جب ناصر وہاں پہنچے تو جج ارشد ملک نے ان سے کہا کہ نواز شریف کیخلاف سنائے گئے فیصلے میں جو کمزوریاں ہیں، وہ آپ کو بتا دیتا ہوں۔ آپ ان کے خاندان اور وکلا تک پہنچائیں۔ ناصر نے ان سے کہا کہ مجھے قانونی اصطلاحات سمجھ نہیں آتے، میں اپنے اعتماد کے ایک وکیل کو بلاتا ہوں، ان کو سمجھا دیں۔ پھر ناصر نے ایک وکیل کو بلایا اور ارشد ملک نے ان کو قانونی نکات سمجھائے۔

 

مریم نواز نے کہا کہ میرے پاس مزید شواہد ہیں۔ مزید بڑے نام بھی سامنے آسکتے ہیں۔ میں کسی ادارے یا فرد کے ساتھ لڑائی نہیں کرنا چاہتی۔ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ میاں نواز شریف کے خلاف جو بے بنیاد اور جھوٹے مقدمات بنائے گئے ان کو ختم کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ 70 سال سے اس ملک میں جو کچھ منتخب وزرائے اعظم کے ساتھ ہوتا رہا میں ان کا مقدمہ لڑ رہی ہوں۔ مجھے پتہ ہے اس کے بعد مجھے بھی خطرہ ہے لیکن میں نے کہا تھا کہ میں نواز شریف کے لئے آخری حد تک جاؤں گی۔

پریس کانفرنس کے اختتام پر مریم نواز شریف نے کہا کہ ہمیں منڈی بہاء الدین میں جلسے کی اجازت نہیں دی گئی لیکن عوام تیار رہیں، مریم نواز جلد وہاں آکر جلسہ کرے گی۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں