بلدیہ عظمیٰ کراچی کا 26 ارب 44 کروڑ کا سرپلس بجٹ آج پیش کیا جائیگا

June 27, 2019

بلدیہ عظمیٰ کراچی کا مالی سال 20-2019ء کا 26 ارب 44 کروڑ روپے کا سرپلس بجٹ آج پیش کیا جائے گا، نئے مالی سال کے بجٹ میں ایک ارب روپے کی نمایاں کمی کی گئی ہے۔

سندھ حکومت کی کٹوتیوں کی وجہ سے بلدیہ عظمیٰ کراچی کا بجٹ شدید متاثر ہے، نئے مالی سال کے بجٹ میں ایک ارب روپے کی نمایاں کمی ہوگئی، بلدیہ عظمیٰ کراچی کا مالی سال 20-2019ء کیلئے 26 ارب 44 کروڑ کا مجوزہ سرپلس بجٹ آج پیش کیا جائے گا۔

بلدیہ عظمیٰ کراچی کیلئے 19-2018ء میں 27 ارب روپے کا بجٹ رکھا گیا تھا، شہری حکومت کے نئے مالی سال کے بجٹ میں ایک کروڑ روپے بچت ظاہر کی گئی ہے، نئے مجوزہ بجٹ میں 26 ارب 44 کروڑ روپے وصولی کا تخمینہ ہے جبکہ اخراجات کا تخمینہ 26 ارب 43 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔

میئر کراچی وسیم اختر کہتے ہیں کہ صوبائی حکومت نے کراچی کے ترقیاتی بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے سے زائد کٹوتی کردی، سال 19-2018ء میں کراچی میں ترقیاتی کاموں کیلئے 5 ارب روپے مختص کئے گئے، صوبائی حکومت نے 5 ارب روپے میں سے محض ڈھائی ارب روپے دیئے۔ بجٹ دستاویز کے مطابق نئے مالی سال میں کراچی میں ترقیاتی کاموں کیلئے 3 ارب 33 کروڑ روپے رکھے گئے۔

رپورٹ کے مطابق بلدیہ عظمیٰ کراچی نے مالی سال 19-2018ء میں 64 ترقیاتی اسکیمیں مکمل کیں جبکہ گزشتہ مالی سال بلدیہ عظمیٰ نے مجموعی طور پر 337 ترقیاتی اسکیمیں رکھی تھیں، نئے مال سال کے ترقیاتی بجٹ میں 390 نئی اور 273 جاری اسکمیں شامل ہیں۔

وسیم اختر نے چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی کے ساتھ نا انصافی کا نوٹس لیں، کراچی کو اس کا جائز حق دلایا جائے، چیف جسٹس سندھ حکومت کی کرپشن اور کراچی سے زیادتی پر اقدامات کریں۔