پیپلزپارٹی کو گرفتاریوں سے فرق نہیں پڑتا، مضبوط ہوتی ہے،آصف زرداری

June 20, 2019

رکن قومی اسمبلی اور سابق صدر آصف زرداری نے پروڈکشن آرڈر ملنے کے بعد قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت کی۔ انھوں نے کہا کہ ہر صنعت رو رہی ہے اور ہمیں بچاؤ ہمیں بچاؤ چلارہی ہے، سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھا کر ٹیکس بھی لگادیے گئے، ٹیکس دینے والوں سے مزید ٹیکس لگانے کی تیاری کی گئی۔ انھوں نے کہا کہ جوطاقتیں انہیں لے کر آئیں ہیں انہیں سوچناچاہیے،ایسا نہ ہو کہ کل عوام اور پورا ملک ان کے خلاف کھڑا ہوجائے، ایسا نہ ہو کہ سیاسی جماعت کے ہاتھوں سے گیند نکل جائے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس کے خطاب سے کرتے ہوئے آصف زرداری نے کہا کہ بجٹ کو کئی اخبارات اور میڈیا پر دیکھا،اس میں کوئی صداقت نہیں کہ اس کو وزارت خزانہ نے بنایا ہو۔ کچھ ایسے ترجیحی موضوعات ہیں جن میں اپوزیشن اور حکومت کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں،اس پر پیپلزپارٹی کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔

آصف زرداری نے کہا کہ ساتھ بیٹھ کر معاشی پالیسی پر بات کرلیتے ہیں۔ اکنامک پالیسی کو اوونرشپ دینی چاہئے،جمہوریت چلتی رہتی ہے لیکن حکمران آتے جاتے ہیں۔ سابق صدر نے کہا کہ  پاکستان ہے تو سب کچھ ہے،پاکستان نہیں ہے تو کچھ نہیں ہے۔ انھوں نے حوالے دیا کہ بے نظیربھٹو کی شہادت کے بعد جب یہ نعرہ لگ رہا تھا کہ پاکستان نہیں چاہئے تو کھڑے ہوکر کہا کہ پاکستان ہونا چاہئے۔

انھوں نے سوال اٹھایا کہ اگر بجٹ صحیح ہے تو لوگ کیوں پریشان ہیں، صنعت کار کیوں رو رہے ہیں،کوئی تو ماجرا ہے۔ موجودہ صورتحال میں اتنا خوف ہے کہ لوگ کاروبار کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں۔