ہوم   >  پاکستان

نواز شریف کی سزا معطلی کی درخواست، عدالت نے 27 جون کو دلائل طلب کرلیے

6 months ago

اسلام آباد ہائی کورٹ میں نواز شریف کی طبی بنیادوں پر سزا معطلی کي درخواست پر سماعت کے دوران عدالت نے سابق وزيراعظم کے وکيل سے سوال کيا ملزم نے چھ ہفتے کي ضمانت کے دوران علاج کیوں نہ کرایا، خواجہ حارث نے جواب دیا کہ اس دوران صرف ٹیسٹ ہوئے اور نئی بیماریاں لگ...

اسلام آباد ہائی کورٹ میں نواز شریف کی طبی بنیادوں پر سزا معطلی کي درخواست پر سماعت کے دوران عدالت نے سابق وزيراعظم کے وکيل سے سوال کيا ملزم نے چھ ہفتے کي ضمانت کے دوران علاج کیوں نہ کرایا، خواجہ حارث نے جواب دیا کہ اس دوران صرف ٹیسٹ ہوئے اور نئی بیماریاں لگ گئیں علاج کے لیے بیرون ملک جانا پڑے گا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں نواز شریف کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت میں نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل کا آغاز کر دیا، عدالت نے استفسار کیا میاں صاحب چھ ہفتے جیل سے باہر رہے علاج کیوں نہ کروایا۔

خواجہ حارث نے کہا کہ اس عرصے میں تو صرف ٹیسٹ ہوئے، میاں صاحب کو نئی اور پہلے سے سنگین بیماریاں لگ گئیں ان کا علاج تو ملک میں ہے ہی نہیں۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا میڈیکل بنیادوں پر آپ کی درخواست پہلے مسترد ہو چکی ہے آپ پھر انہی بنیادوں پر درخواست لے آئے ایسے تو نہیں ہوتا، نئے حقائق سامنے آ جائیں تو درخواست دائر ہوسکتی ہے۔

خواجہ حارث نے جواب دیا کہ ڈاکٹرز کے مطابق میاں صاحب کی جان کو خطرہ ہے، دماغ کو خون سپلائی کرنے والی شریانیں کام نہیں کر رہیں انہیں سرجری تجویز کی گئی ہے۔

نیب کی جانب سے میاں صاحب کی درخواست پر جواب میں تاخیر پر ڈی جی نیب کی سرزنش، عدالت نے ریمارکس دیے اگر کسی کی ضمانت بنتی ہے تو اس میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے، عرفان منگی بولے کام کا بوجھ تھا آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔

عدالت نے نواز شریف کے وکیل کی جانب سے اضافی دستاویزات جمع کرانے کی درخواست منظور کرتے ہوئے سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی جبکہ سزا کے خلاف مرکزی اپیل پر ستائیس جون کو دلائل طلب کر لیے۔

 
TOPICS:

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں