ہوم   > Latest

عمران خان کو چاہئے پرویز مشرف دور سے کرپشن تحقیقات کا آغاز کرے، شہباز شریف

SAMAA | - Posted: Jun 19, 2019 | Last Updated: 11 months ago
SAMAA |
Posted: Jun 19, 2019 | Last Updated: 11 months ago

قومی اسمبلی میں طویل ترین تقریر کے دوران اپوزیشن رہنما شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عمران خان نیازی شوق سے کمیشن بنائیں مگر کرپشن تحقیقات کا آغاز نیلم جہلم پراجیکٹ سے کریں، جو مشرف کے دور میں شروع ہوا۔ قومی اسمبلی کے چار روزہ ہنگامہ خیز اجلاس کے بعد بدھ کے روز بجٹ تقریر...

قومی اسمبلی میں طویل ترین تقریر کے دوران اپوزیشن رہنما شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عمران خان نیازی شوق سے کمیشن بنائیں مگر کرپشن تحقیقات کا آغاز نیلم جہلم پراجیکٹ سے کریں، جو مشرف کے دور میں شروع ہوا۔

قومی اسمبلی کے چار روزہ ہنگامہ خیز اجلاس کے بعد بدھ کے روز بجٹ تقریر پر اجازت کیا ملی کہ انہوں نے خورشید شاہ کی طویل ترین تقریر کا ریکارڈ ہی توڑ ڈالا۔

پر اپوزیشن رہنما اور ن لیگ کے صدر شہباز شریف نے کہا کہ حکومت کے ساتھ میثاق معیشت چاہتے ہیں، حکومت کو چارٹر آف اکنامی کرنے کی تجویز دی تھی، تاہم انہوں نے اسے رد کردیا، ہم  پی ٹی آئی سے چارٹر آف اکانومی کے لیے تیار ہیں، ہم حکومت کے ساتھ میثاق معیشت چاہتے ہیں، اس موقع پر اسپیکر اسد قیصر نے کہا کہ میثاق معیشت ہم بھی چاہتے ہیں کیونکہ یہ ملکی ضرورت ہے، میثاق معیشت کے لیے حکومت سے بات کروَں گا، اس پر شہباز شریف نے پشتو میں اسپیکر اسد قیصر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ "ڈیر مہربانی"۔

شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان نے کنٹینر پر عوام کو سہانے خواب دکھائے، پی ٹی آئی کے یوٹرنز نے ملک کوجہنم بنا دیا ہے، خدشہ ہے میری تقریر ختم ہونے تک ڈالر 160 تک نہ پہنچ جائے، عمران خان نے کہا ان کی چیخیں نکال دوں گا، 10مہینے کی مہنگائی نے واقعی عوام کی چیخیں نکال دی ہیں، عمران خان نے رات گئے قوم سے خطاب کیا، صبح میں نے پوچھا خیر تو ہے وزیراعظم نے رات کو خطاب کیا، پتا چلا وزیراعظم نے قرضوں پر کمیشن بنا دیا ہے۔

 اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے کمیشن بنایا ہے تو یہ اچھی بات ہے، مگر اس سے بھی اچھا یہ ہوتا کہ وہ نيلم جہلم پراجیکٹ کی کرپشن سے اس تحقیقاتی کمیشن کا آغاز کرتے، انہوں نے کہا کہ نیلم جہلم کا پراجيکٹ ايک ارب ڈالر کا تھا، پانچ ارب ڈالرخرچ ہوچکے ہیں۔، وزیراعظم قرضوں پرکميشن بنايا ہے تو نيلم جہلم منصوبے کي بھي تحقيقات کریں، جو مشرف نے شروع کیا۔

قائد حزب اختلاف نے کہا کہ چار روز ہاؤس کا وقت ضائع کیا گیا، بجٹ سیشن اہم ترین موقع ہے، ایوان میں موجود لوگ عوام سے ووٹ لے کر آئے ہیں لہذا اسپیکر قومی اسمبلی کےکندھوں پر بھاری ذمہ داری ہے، کل بھی آپ سے پروڈکشن آرڈرز جاری کرنے کی درخواست کی تھی، آصف زرداری، سعد رفیق اور محسن داوڑ ایوان کے ممبر ہیں، اراکین لاکھوں ووٹ لے کر عوام کے جذبات کی ترجمانی کے لیے آتے ہیں، اراکین کی حاضری یقینی بنانا اسپیکر کی ذمہ داری ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ہمارے خلاف بدترین سازش کا جال بنا تاہم ہم نے نہایت تحمل و برداشت سے اس وقت کو گزارا، چینی صدر نے ستمبر 2014 میں تشریف لانا تھا، پی ٹی آئی رہنماؤں سے کہا 3 دن کے لیے ڈی چوک سے اٹھ جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی وجہ سےچینی صدر نے دورہ ملتوی کردیا تاہم دہشت گردی،معیشت کی بہتری کیلئے چین ہماری مدد کو آیا، پی ٹی آئی نے چینی صدر کا دورہ ملتوی کراکے ملک دشمنی کا ثبوت دیا، وزیراعظم کئی بار این آر او کا ذکر کر چکے ہیں تاہم وزیراعظم کو این آر او دینے کا اختیار ہی نہیں ہے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے چیخ چیخ کر کہا کہ شہبازشریف نے 10 ارب پانامہ کیس میں پیشکش کی، ملتان میٹرو میں کک بیکس اور جنگلہ بس کا الزام لگایا، نوٹس دیے اور عدالتوں میں بلوایا لیکن آج تک جواب نہیں دیا، ایسے وزیر اعظم پر دنیا کیسے اعتبار کرے گی، بات پھر انڈے مرغی اور کٹے پر آکر رہ جائے گی۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube