خیبرپختونخوا کے بجٹ میں انوکھے ٹیکس عائد کیے جانے کی تجاویز

June 19, 2019

خیبر پختونخوا کے آئندہ مالی سال کے لیے پیش کیے جانے والے نو سو ارب روپے کے سرپلس بجٹ میں تمام شہریوں کو صحت کارڈ دینے سمیت صوبے میں 47 ہزار نئی آسامیوں کی خوشخبری کے علاوہ مزید ٹیکسز کیلئے ردوبدل کرنے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔

خیبرپختونخوا حکومت نے سالانہ بجٹ میں مزید ٹیکس عائد کرنے کے لیے تجاویز میں درزی حضرات کو بھی دائرہ کار میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

درزیوں پر ٹیکسز لاگو کرنے کیلئے شلوار قمیض اور ویسٹ کوٹ سینے پر سالانہ ٹیکس 10 ہزار جبکہ پینٹ شرٹ سینے والے درزی پر 15 ہزار روپے سالانہ ٹیکس تجویز کیا گیا ہے۔

پشاورکے اسپیشلسٹ ڈاکٹرز پرسالانہ 80 ہزار روپے جبکہ دیگراضلاع کے اسپیشلسٹ ڈاکٹرز پر 50 ہزار ٹیکس عائد کرنے کی تجویز کے علاوہ نئے بجٹ میں شادی ہال مالکان کیلئے سالانہ 60 ہزار جبکہ ریسٹورنٹ اورگیسٹ ہاؤس والوں کے لیے 40 ہزارسالانہ ٹیکس دینے کی تجویز دی گئی ہے۔

گریڈ ایک سے گریڈ چھ تک کے ملازمین پر ٹیکس عائد نہیں کیا جائے گا۔ گریڈ1 سے 12 تک کے ملازمین پرایک ہزار،گریڈ 13 سے گریڈ 17 تک ڈیڑھ ہزار روپے ، گریڈ 18 والوں کیلئے 1800 روپے، گریڈ 19 پر 2 ہزار اور اورگریڈ 20 کے افسران کیلئے 3 ہزار روپے ٹیکس کی تجویز دی گئی ہے ۔

حکومت نے فی کلو نسوار پر ٹیکس 50 پیسے بڑھانے کے علاوہ ماہانہ ہزار روپے فیس وصول کرنے والے نجی تعلیمہ اداروں پر سالانہ 12 ہزار روپے ٹیکس اور ماہانہ 5ہزار روپے فیس وصول کرنے والوں پر سالانہ ایک لاکھ روپے ٹیکس کی تجویز دی ہے۔

اس کے علاوہ نجیمیڈیکل اور انجنیئرنگ کالجز ایک، ایک لاکھ روپے سالانہ ٹیکس دیں گے۔

خیبرپختونخواہ کے بجٹ میں وفاق سے 588 ارب روپے وصولی کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ قبائلی اضلاع کی ترقی کے لئے پاک فوج اور وفاق اضافی 151 ارب روپے بھی دیں گے۔اس کے علاوہ صوبے کی چار ہزار مساجد کی سولرائزیشن کی جائے گی جبکہ پہلی بار دینی مدارس کے طلبہ کو وظائف بھی دیے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔