ہوم   >  پاکستان

کابینہ کا اجلاس، حسین اصغر ’کرپشن کمیشن‘ کے سربراہ تعینات

4 months ago

وفاقی کابینہ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے ڈپٹی چیئرمین حسین اصغر کو قرضوں اور کرپشن کیلئے قائم کردہ کمیشن کا سربراہ مقرر کردیا جبکہ کمیشن میں تمام صوبوں سمیت گلگت بلتسان اور آزاد کشمیر کو بھی نمائندگی دی گئی ہے۔

مجوزہ کمیشن 2008 سے 2018 کے دوران حکومتی قرضوں کی تحقیقات کرے گا۔ دس سالہ دور میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی حکومتیں رہیں جبکہ اس سے قبل تقریبا 10 سال پرویز مشرف کی حکومت رہی جس کی تحقیقات نہیں کی جائیں گی۔

وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں متعدد فیصلے کیے گئے۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات نشریات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزیراعظم چاہتے ہیں عوام مشکل وقت میں ساتھ دیں۔

وفاقی کابینہ نے کفایت شعاری مہم کے تحت پاکستان ٹورزم ڈویلپمنٹ کارپوریشن ( پی ٹی ڈی سی) 157 ریسٹ ہاؤسز کرنے کا فیصلہ کیا۔ اب یہ صرف حکومتی اور سرکاری افراد ک دسترس میں نہیں ہو گا بلکہ سیاحوں کیلئے کھول دیے جائیں گے اور اس کی آمدنی قومی خزانے میں جائے گی۔ اس کے علاوہ دیگر محکموں کے ریسٹ ہاوسز کی فہرست بھی تیار کر لی گئی ہے۔

فردوس عاشق اعوان نے ملک کی موجودہ صورتحال کا سارا ملبہ ماضی کے حکمرانوں پر ڈالتے ہوئے کہا کہ سابقہ وزرائے اعظم چادر سے زیادہ پاؤں پھیلاتے تھے۔ حکمرانوں نے ذاتی عیاشیوں پر قوم کا پیسہ خرچ کیا جبکہ تحریک انصاف نے اقتدار میں آکر کفایت شعاری کی پالیسی اپنائی۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ شہبازشریف نے 34 کروڑ کے جہاز میں سیروتفریح کی۔ 45 ارب روپے ذاتی تشہیر پر خرچ کیے۔ ان کے مختلف کیمپ آفس میں لگنے والا پیسہ قوم کیلئے زہر کا ٹیکہ ہے۔ اب پنجاب حکومت تنکا تنکا اکٹھا کرکے شہباز شریف کی عیاشیوں کی قیمت ادا کررہی ہے۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ منی لانڈرنگ میں ملوث رنگے ہاتھوں پکڑے جانے والے چوری اور سینہ زوری کر رہے ہیں اور کرپشن کے کیسز میں گرفتار قیدی خود پر سیاسی قیدی کا لیبل لگارہے ہیں۔ وہ کرمنل جو سیاسی قیدی بن کر پارلیمنٹ کی راہداری میں گھومنا چاہتے ہیں اس کا استحقاق اسپیکر کے پاس ہے۔ کرپشن میں گرفتار افراد کو پولیس پروٹوکول میں لے جانے کی حوصلہ شکنی کی جائے۔

بجٹ سے متعلق اپوزیشن کے احتجاج کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ احتجاج کی آڑ میں اسپیکرکو آفس میں محصور کردیا گیا۔ آپ کون ہوتے ہیں بجٹ کو روکنے والے۔ بجٹ پاس ہوکر رہے گا۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں