مریم نواز کو سیاسی عہدے سے ہٹانے کی درخواست پر ن لیگ سے جواب طلب

June 17, 2019

الیکشن کمیشن نے مریم نوازکو پارٹی عہدے سے ہٹانے کی درخواست پرمسلم لیگ ن سے پچیس جون کوجواب طلب کرلیا۔

چیف الیکشن کمشنرکی سربراہی میں تین رکنی کمیشن نے مریم نوازکو ن لیگ کی نائب صدارت سے ہٹانے کی درخواست پرسماعت کی ۔ ن لیگ کی جانب سے جہانگیر جدون اور مریم نواز کی جانب سے بیرسڑظفر اللہ جبکہ پی ٹی آئی کی طرف سے حسن مان پیش ہوئے ۔

وکیل ن لیگ جہانگیر جدون نےکہا ہے کہ ابھی تک پٹیش کی کاپی نہیں ملی، تحریک انصاف نے جو دستاویزات عدالت کو دی ہیں ان کی کاپی ملے گی تو جواب جمع کرائیں گے۔

جس پر الیکشن کمیشن نے ن لیگ کو پٹیشن کی کاپی اور ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ن لیگ سے 25 جون کو ہونے والی آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا ۔

پس منظر

یاد رہے کہ 9 مئی 2019 کو پی ٹی آئی کے 4 اراکین قومی اسمبلی کی جانب سےالیکشن کمیشن میں دائر کی جانے والی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ مریم نواز احتساب عدالت سے سزا یافتہ ہیں، جس نے انہیں عوامی عہدے کیلئے نااہل قرار دیا۔ پارٹی عہدہ نجی حیثیت کا حامل نہیں ہوتا کیونکہ سیاسی جماعتوں کا پورے سیاسی نظام پر اثررسوخ ہوتا ہے۔

درخواست کے متن کے مطابق پارٹی صدر کی عدم دستیابی پر مریم قائم قام صدر کے اختیار استعمال کریں گی،کیسے ممکن ہے اراکین اسمبلی آرٹیکل 62 ، 63 پر پورا اتریں اور انہیں کنٹرول کرنے والے نہیں۔ سپریم کورٹ نوازشریف کو بھی پارٹی عہدے کیلئے نااہل قرار دے چکی ہے، مریم نواز کوعہدہ رکھنے کی اجازت دینا نوازشریف کو اجازت دینے کے مترادف ہے، لہذاٰالیکشن کمیشن مریم نواز کی بطور پارٹی نائب صدر تعیناتی کالعدم قرار دے۔

ن لیگ کا اعلامیہ

اس سے قبل 3مئی کو صدر ن لیگ شہباز شریف نے لندن سے اعلامیہ جاری کیا تھا جس کے مطابق نائب صدور کی 16 رکنی فہرست میں مریم نواز ، حمزہ شہباز اورخواجہ سعد رفیق کا نام بھی شامل تھا جبکہ اسحاق ڈارانٹرنیشنل افیئرز کے صدر اور نزہت صادق خواتین ونگ کی صدر مقرر کی گئیں۔

اعلامیے کے مطابق احسن اقبال مرکزی سیکرٹری جنرل ، شاہد خاقان عباسی سینیئر نائب صدر،مریم اورنگزیب سیکرٹری اطلاعات اور پرویز ملک سیکرٹری فنانس کی ذمہ داریاں نبھائیں گے۔