ہوم   >  پاکستان

لیفٹننٹ جنرل فیض حمید آئی ایس آئی کے سربراہ تعینات

4 months ago

پاک فوج میں اہم عہدوں پر تقرریاں اور تبادلے کئے گئے ہیں جس کے تحت لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کا ڈائریکٹر جنرل تعینات کردیا گیا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل جبکہ لیفٹیننٹ جنرل معظم اعجاز کو جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) میں انجینئر ان چیف تعینات کردیا گیا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا کو جی ایچ کیو میں ایڈجوٹینٹ جنرل جبکہ لیفٹیننٹ جنرل عامر عباسی کو کوارٹر ماسٹر جنرل تعینات کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو کور کمانڈر گوجرانوالہ تعینات کردیا گیا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اس وقت خبروں کی زینب بنے جب علامہ خادم حسین رضوی نے فیض آباد میں جاری دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا۔

یہ بھی پڑھیں: آصف غفور کی پریس کانفرنس میں مذکور جنرل فیض کون ہیں؟

اکتوبر 2017 میں الیکشن ایکٹ میں چند ترامیم پر تنازع کھڑا ہوا جس کے بعد تحریک لبیک نے اسلام آباد کے فیض آباد انٹرچینج پر دھرنا دیدیا اور وفاقی دارالحکومت مفلوج ہوگیا۔

بار بار مذاکرات کی ناکامی کے بعد حکومت نے دھرنا ختم کرانے کے لیے پولیس آپریشن کا فیصلہ کیا لیکن اس میں بھی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔

اس کے بعد 27 نومبر کو تحریک لبیک کے سربراہ خادم حسین رضوی نے اچانک پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ’پاک فوج کے تعاون‘ سے حکومت کے ساتھ معاہدہ ہوگیا ہے اور انہوں نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان بھی کیا۔

انہوں نے کہا کہ دھرنا ختم کرانے کے لیے آرمی چیف نے ذاتی دلچسپی لی اور یقین دلایا ہے کہ مطالبات پورے کرانے کے لیے ہم ضامن بنتے ہیں اور اس مقصد کیلئے آئی ایس آئی کے افسر فیض حمید ان کے پاس آئے۔

جب معاہدے کی کاپی سامنے آگئی تو اس میں پاک فوج کی کاوشوں کو سراہا گیا تھا اور اس معاہدے پر جنرل فیص حمید کے دستخط تھے جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی سوالات اٹھائے۔

اسلام آبائی ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے دھرنے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران کہا تھا کہ اس معاہدے کی ایک بھی شق قانون کے مطابق نہیں ہے۔ انہوں نے معاہدے میں فوج کے شامل ہونے پر اعتراض کرتے ہوئے تنقید کی تھی اور آخر میں کہا تھا کہ اس تنقید کے بعد یا تو وہ مار دیے جائیں گے یا غائب کردیے جائیں گے۔

 
TOPICS:

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں